World
امریکہ اور ایران مذاکرات: ٹرمپ کا بڑا بیان اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہ تو جاری ہیں اور نہ ہی مستقبل میں طے شدہ ہیں۔ اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی سلسلہ جاری نہیں ہے اور نہ ہی آئندہ کے لیے کوئی ملاقات یا بات چیت شیڈول کی گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا کہ ایران وہ معاہدہ نہیں کرے گا جو ان کے نزدیک خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ موجودہ فریم ورک معاہدے میں کسی قسم کی توسیع کے خواہاں نہیں ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے بھی ممکنہ نئے جارحانہ اقدامات کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں جبکہ امریکہ نے جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس سفارتی تعطل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا فوری اثر عالمی منڈیوں پر پڑا ہے جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 91 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہیں۔ ماہرین معاشیات اور عالمی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ اور مذاکرات کے دروازے بند ہونے سے مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں بھی اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید ہلچل مچی ہوئی ہے اور سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے خطے میں کسی بھی بڑی عسکری یا معاشی تبدیلی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔