Technology
گرین ہائیڈروجن کے لیے نیا سستا اسٹیل متعارف
یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے چھ سالہ تحقیق کے بعد ایسا نیا اسٹین لیس اسٹیل تیار کیا ہے جو سمندری پانی میں بھی انتہائی سخت حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ یہ نئی ایجاد گرین ہائیڈروجن کی تیاری میں مہنگے ٹائٹینیم کا متبادل فراہم کرے گی اور لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
گرین ہائیڈروجن کا شمار مستقبل کے صاف ستھرے ایندھن میں ہوتا ہے، تاہم اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات کی لاگت اور ان کا سخت ماحول کا مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اب یونیورسٹی آف ہانگ کانگ (HKU) کے سائنسدانوں نے تقریباً چھ سال کی طویل تحقیق کے بعد ایک ایسا نیا اسٹین لیس اسٹیل تیار کر لیا ہے جو اس صنعت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نئے میٹریل کا نام 'ایس ایس ایچ ٹو' (SS-H₂) رکھا گیا ہے، جو ہائیڈروجن کی پیداوار کے دوران درپیش شدید الیکٹرو کیمیکل حالات کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روایتی طور پر گرین ہائیڈروجن کے آلات کو شدید سنکنرن (corrosion) اور زنگ سے بچانے کے لیے مہنگے ٹائٹینیم کے پرزے استعمال کرنا پڑتے ہیں، جس سے پورے منصوبے کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم، ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے تیار کردہ اس نئے اسٹیل نے اس مسئلے کا ایک سستا اور انتہائی موثر حل پیش کر دیا ہے۔ یہ مٹیریل سمندری پانی کے اندر 1,700 ملی وولٹ تک کے دباؤ اور حالات کو آسانی سے برداشت کر سکتا ہے، جو کہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ انتہائی شدید اور کشر (corrosive) ماحول میں بھی طویل عرصے تک خراب نہیں ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی ایجاد کی بدولت ہائیڈروجن انرجی انڈسٹری میں ساختیاتی مواد کے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ تخمینے کے مطابق، اس نئے اسٹین لیس اسٹیل کے استعمال سے متبادل ٹائٹینیم کے مقابلے میں اخراجات میں چالیس گنا تک کمی آ سکتی ہے، جس سے گرین ہائیڈروجن کو تجارتی پیمانے پر زیادہ سستا اور قابل عمل بنانے میں مدد ملے گی۔ اس پیش رفت سے نہ صرف توانائی کے حصول کا یہ طریقہ کار عام صارفین کے لیے آسان ہوگا بلکہ دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
یونیورسٹی کے محققین اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے اور اسے صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کامیابی کے بعد دنیا بھر میں گرین ہائیڈروجن پلانٹس کے قیام کی رفتار تیز ہوگی کیونکہ اب سرمایہ کاروں کو مہنگے ترین ٹائٹینیم پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ تحقیق صاف توانائی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے آنے والے دنوں میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔