World
شمالی کوریا کی عسکری قوت اور امریکی حمایت کا مستقبل
یوکرین کے تنازع میں روس کی حمایت کے لیے شمالی کوریا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوج بھیجے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کو علاقائی سلامتی کے حوالے سے امریکی حمایت میں ممکنہ کمی پر تشویش لاحق ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیینسکی کے مطابق، شمالی کوریا روس کی فوجی مہم کی حمایت کے لیے پچاس ہزار کے قریب تازہ ترین فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر عسکری اتحاد اور اتحادیوں کے درمیان تعلقات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں سیکیورٹی کے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور بین الاقوامی برادری اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب، جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری ہے کہ آیا روایتی امریکی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ جنوبی کوریا کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور روس کے ساتھ اس کے گہرے ہوتے ہوئے دفاعی تعلقات جزیرہ نما کوریا کے امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر واشنگٹن کی طرف سے سیکیورٹی کی یقین دہانیوں میں کمی ہوتی ہے تو سیول کو اپنی دفاعی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
اس بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں ماسکو اور پیانگ یانگ کے تعلقات نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شمالی کوریا کے اس قدم سے نہ صرف یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات طویل ہو سکتے ہیں بلکہ ایشیا پیسیفک خطے میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا خدشہ ہے۔ عالمی رہنما اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال حالات انتہائی کشیدہ نظر آتے ہیں۔