LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں سوشل کیئر اصلاحات: خاندانوں کی مشکلات اور امیدیں

News Image
برطانیہ میں سوشل کیئر کے نظام میں جامع اصلاحات کی بازگشت کے درمیان، متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی دیکھ بھال کے لیے روزانہ کی بنیاد پر شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بی بی سی نیوز نے ایسے ہی خاندانوں سے بات کی ہے جو اس نظام میں بہتری کے شدید خواہشمند ہیں۔
برطانیہ میں سوشل کیئر کے نظام کو بہتر بنانے اور اس میں بنیادی اصلاحات لانے کے حوالے سے بحث ایک بار پھر عروج پر ہے۔ سیاسی رہنماؤں، جن میں اینڈی برہم بھی شامل ہیں، نے اس نظام کے مکمل اوور ہال پر زور دیا ہے تاکہ عام شہریوں اور ان کے خاندانوں کو درپیش مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ اس تناظر میں بی بی سی نیوز نے ملک بھر کے ان متعدد خاندانوں سے خصوصی بات چیت کی ہے جو اپنے معذور، بیمار یا ضعیف العمر پیاروں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اکیلے اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام انتہائی پیچیدہ اور ناکافی ہے، جس کی وجہ سے انہیں قدم قدم پر شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انٹرویو کے دوران متاثرہ خاندانوں نے اپنے تلخ تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر روز غیر یقینی کی کیفیت میں گزارتے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آتا کہ طویل مدتی دیکھ بھال کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لفظی طور پر ہر دن حالات کے مطابق گزار رہے ہیں اور مستقل بنیادوں پر کوئی مدد دستیاب نہیں ہوتی۔ حکومتی اور نجی امداد کے درمیان توازن نہ ہونے کی وجہ سے گھر کے ایک فرد کو نوکری چھوڑ کر کل وقتی نگہداشت کرنی پڑتی ہے، جس سے پورے خاندان کی معاشی حالت تباہ ہو جاتی ہے۔ نرسنگ ہومز کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور گھر پر نرسنگ کی سہولیات کی عدم دستیابی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین اور سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ اگر برطانوی حکومت نے فوری طور پر سوشل کیئر کے شعبے میں فنڈنگ نہ بڑھائی اور پالیسیوں میں اصلاحات نہ کیں، تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ عوام کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صحت کے قومی نظام این ایچ ایس کی طرح سوشل کیئر کو بھی ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ کسی بھی شہری کو اکیلے اس بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف وعدوں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو ان کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لا سکیں۔