LIVE
Loading Breaking News...

ایجنٹک اے آئی اور سیکیورٹی آپریشن سینٹرز کی تحقیقاتی صلاحیت

News Image
سیکیورٹی آپریشن سینٹرز کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے ایک نئی ایجنٹک اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی گئی ہے۔ یہ نظام فرضی الرٹس کی چھان بین اور سیکیورٹی تحقیقات میں تیزی لانے کیلئے انتہائی مؤثر ثابت ہوگا۔
آج کے دور میں دنیا بھر کے سیکیورٹی آپریشن سینٹرز (SOC) ایک بہت بڑے چیلنج کا شکار ہیں، جہاں انہیں روزانہ کی بنیاد پر بے شمار سیکیورٹی الرٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان الرٹس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور ٹیموں کی بھرتی کی رفتار اس کے مقابلے میں کافی سست ہے۔ اس صورتحال میں زیادہ تر الرٹس غلط ثابت ہوتے ہیں، جنہیں فالس پازیٹوز کہا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود سیکیورٹی عملے کو ہر الرٹ پر توجہ دینا پڑتی ہے تاکہ کسی بڑے خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اسی مسئلے کا حل نکالنے کیلئے اب ایک جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جسے انسٹنٹ اٹیک ویری فیکیشن کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم ایجنٹک اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس پر مشتمل ہے جو ٹیر ون اور ٹیر ٹو سیکیورٹی انویسٹی گیشن کو خودکار طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد سیکیورٹی ٹیموں پر دباؤ کو کم کرنا اور حقیقی حملوں کی نشاندہی کو زیادہ درست بنانا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام انتہائی قلیل وقت میں مختلف سیکیورٹی ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ آیا کوئی الرٹ واقعی خطرناک ہے یا محض ایک غلط الرٹ ہے۔ اس سے نہ صرف تجزیہ کاروں کا قیمتی وقت بچتا ہے بلکہ وہ اپنی توانائیاں ان حقیقی خطرات پر مرکوز کر سکتے ہیں جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایجنٹک اے آئی کا یہ استعمال سائبر سیکیورٹی کی صنعت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، کیونکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ خودکار نظام زیادہ تیزی سے اور درستگی کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسے جیسے سائبر خطرات زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں، سیکیورٹی کے شعبے میں ایسے ہی سمارٹ اور خودکار حل کی اشد ضرورت تھی جو انسانی عملے کے شانہ بشانہ کام کر سکیں۔