Technology
اوبر اور زپ لائن کی ڈرون ڈیلیوری شراکت داری
رائড ہیেইলিگ کمپنی اوبر نے خودکار ڈرون ڈیلیوری فراہم کرنے والی فرم زپ لائن کے ساتھ ایک تاریخی شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس اشتراک کا مقصد امریکہ بھر میں اوبر ایٹس کے صارفین تک ڈرونز کے ذریعے کھانوں اور اشیاء کی تیز رفتار ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔
رائڈ ہیেইলিگ کی دنیا کی معروف ترین کمپنی اوبر نے پیر کے روز ایک بڑے اور انقلابی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے خودکار ڈرون ڈیلیوری کے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والی فرم 'زپ لائن' کے ساتھ اشتراک کر لیا ہے۔ اس نئی شراکت داری کے تحت اوبر ایٹس کے آرڈرز اب ریاستہائے متحدہ امریکہ میں صارفین کے گھروں تک ڈرونز کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔ اس معاہدے کو دونوں کمپنیوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں اوبر کی جانب سے ایک نامعلوم اسٹریٹجک سرمایہ کاری بھی شامل کی گئی ہے۔ اس قدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوبر روایتی ڈیلیوری کے طریقوں سے ہٹ کر مستقبل کی خودکار ٹیکنالوجی پر بھرپور انحصار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
زپ لائن کے خودکار ڈرون اپنی درستگی، رفتار اور سادگی کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہیں، اور وہ پہلے ہی طبی شعبے میں ادویات اور خون کی ترسیل کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ اب اس نئی شراکت کے بعد، یہ جدید ڈرونز ریسٹورنٹس سے کھانا اٹھا کر براہ راست صارفین کے متعین کردہ مقامات تک پہنچائیں گے۔ اس سے نہ صرف روایتی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ آرڈرز کی ترسیل کے وقت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ دونوں کمپنیاں اس نظام کو اتنے بڑے پیمانے پر پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہیں کہ مستقبل میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈرون ڈیلیوریز کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت، زپ لائن اپنے جدید ترین خودکار ڈرون سسٹمز کو اوبر کے پلیٹ فارم کے ساتھ ضم کرے گی، جس سے آرڈر کرنے کا عمل صارفین کے لیے انتہائی آسان اور ہموار ہو جائے گا۔ ناقدین اور ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ ڈرون ڈیلیوری کا یہ رجحان آنے والے برسوں میں کھانے پینے کی ترسیل کی صنعت کا نقشہ مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔ اگرچہ اس منصوبے کو ملک بھر میں مکمل طور پر نافذ کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اجازت کے مراحل بھی طے کیے جائیں گے، لیکن اوبر اور زپ لائن کا یہ مشترکہ عزم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خودکار ہوائی ترسیل اب خواب نہیں بلکہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔