Technology
ٹیلی کام انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت اور ایچ سی ایل ٹیک کی رپورٹ
ایچ سی ایل ٹیک اور موبائل ورلڈ لائیو کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کو ریونیو بڑھانے کا بنیادی محرک مانا جا رہا ہے۔ تاہم صرف پچیس فیصد ادارے اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایچ سی ایل ٹیک نے موبائل ورلڈ لائیو کے اشتراک سے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری کے رہنماؤں کی بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کو اپنے کاروبار میں ریونیو کا سب سے بڑا محرک سمجھتی ہے۔ یہ رپورٹ ٹیلی کام سیکٹر میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید رجحانات کا احاطہ کرتی ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اے آئی نیٹ ورک کی کارکردگی بہتر بنانے اور نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شعبے کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طویل المدتی کامیابی کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اہم چیلنج یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صنعت سے تعلق رکھنے والی صرف پچیس فیصد کمپنیاں اس وقت اے آئی کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنے کے لیے تکنیکی اور انتظامی لحاظ سے تیار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر اداروں کو انفراسٹرکچر کی کمی، ماہرین کی قلت اور ڈیٹا مینجمنٹ کے مسائل کا سامنا ہے جو اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایچ سی ایل ٹیک کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ڈیجیٹل حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ میں مسابقتی برتری حاصل کر سکیں۔ اس رپورٹ کے نتائج انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہیں کہ وہ اے آئی کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی سرمایہ کاری اور تیاری کے عمل کو تیز کریں، بصورت دیگر وہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔