Business
پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد کمی
پاکستان میں رواں مالی سال کے آغاز پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات مایوس کن رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں ملکی معیشت میں آنے والی ایف ڈی آئی میں 20 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
پاکستان کی معیشت کے لیے رواں مالی سال 27-2026 کا آغاز کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا، کیونکہ ملک میں آنے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں جولائی کے دوران 20 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی صنعتی اور تجارتی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی کوششیں جاری ہیں، لیکن حالیہ اعداد و شمار ملکی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔
میٹس گلوبل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جولائی کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مرکز بنیادی طور پر پاور سیکٹر رہا ہے، جس نے سب سے زیادہ مجموعی سرمایہ کاری حاصل کی۔ تاہم، دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کا حجم توقعات کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے مجموعی قومی اعداد و شمار میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنانا ہی اس خلا کو پر کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اگر نجی شعبے کو پالیسی سازی میں زیادہ شامل کیا جائے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد میں دوبارہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
معاشی مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا فقدان دراصل پالیسیوں کے تسلسل اور طویل مدتی معاشی اصلاحات میں رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حالات میں جب ملکی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور دیگر مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے، ایسی صورت میں ایف ڈی آئی میں 20 فیصد کی کمی ملکی ذخائر پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حکومت کو اب چاہیے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو آپریشن اور ٹیکس مراعات کے نظام کو مزید شفاف اور آسان بنائے تاکہ ملک میں سرمائے کے بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔
آنے والے مہینوں میں حکومتی حکمت عملی کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ وہ کس طرح سرمایہ کاروں کے خدشات کو دور کرتی ہے۔ پاور سیکٹر کے علاوہ دیگر برآمدی شعبوں اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو مالی سال کے باقی حصوں میں بھی معاشی اہداف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔ فی الوقت، ملکی معاشی ٹیم کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔