LIVE
Loading Breaking News...

سیپ بلاتر کی فیفا ورلڈ کپ کے حصص فروخت کرنے کے منصوبے پر تنقید

News Image
فیفا کے سابق سربراہ سیپ بلاتر نے ورلڈ کپ کے حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ اس طرح کا اقدام فٹ بال کے کھیل کو عام شائقین سے مزید دور کر دے گا۔
فیفا کے سابق صدر سیپ بلاتر، جو سنہ 2015 تک سترہ سال تک اس عالمی ادارے کے سربراہ رہے، نے حال ہی میں سامنے آنے والی اس نئی تجویز پر شدید غصے اور تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت فیفا ورلڈ کپ کے کچھ حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیپ بلاتر کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات فٹ بال جیسے مقبول ترین کھیل کو عام شائقین سے دور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ کھیل دنیا بھر کے کروڑوں عام لوگوں کی ملکیت ہے اور اسے تجارتی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔ نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت سے کھیلوں کے روایتی اصول اور شائقین کی رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر فٹ بال کے حلقوں میں پہلے ہی بحث چھڑ چکی ہے۔ اپنے دور صدارت میں سیپ بلاتر نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی کہ فٹ بال کی آمدنی کو کھیل کی ترویج اور عام شائقین کی سہولت کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ اسے کارپوریٹ پرافٹ کا ذریعہ بنایا جائے۔ ان کا تازہ ترین بیان اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ دور میں فیفا اور دیگر کھیلوں کے ادارے کمرشلائزیشن کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو کہ کھیل کی روح کے منافی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ورلڈ کپ کے معاملات میں کارپوریٹ سیکٹر کا عمل دخل مزید بڑھ گیا تو ٹکٹوں کی قیمتیں عام شائقین کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی اور میچز دیکھنا عام آدمی کے لیے خواب بن جائے گا۔ دوسری جانب، فٹ بال کے مبصرین کا خیال ہے کہ فیفا کو مالیاتی استحکام کے لیے نئے ذرائع کی تلاش ہے لیکن اس کے لیے کھیل کے بنیادی جذبے اور شائقین کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تجویز کے حوالے سے مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا بھر کے فٹ بال سے محبت کرنے والے اس اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔