LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی ووٹر آئی ڈی سسٹم اور امریکی انتخابات: ٹرمپ کا نیا بیانیہ

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں سخت انتخابی قوانین کے حق میں بھارت کے ووٹر آئی ڈی نظام کا حوالہ دیا ہے۔ اس بیان نے عالمی سطح پر بھارتی انتخابی شفافیت اور امریکی انتخابی اصلاحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر انتخابی شفافیت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے ووٹر آئی ڈی (شناختی کارڈ) نظام کا حوالہ دیا ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ جس طرح بھارت میں ووٹ ڈالنے کے لیے باقاعدہ شناختی تصدیق کا عمل ضروری ہے، اسی طرز پر امریکہ میں بھی انتخابات کے دوران سخت قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ووٹر کی شناخت یقینی بنائے بغیر انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں، لہذا امریکہ کو بھارت کے ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیاست میں انتخابی عمل کی ساکھ ایک انتہائی حساس موضوع بن چکی ہے۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کار اس تقابل پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے انتخابی نظام اور آبادیاتی ساخت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بھارت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر آئی ڈی کا نظام برسوں پر محیط ایک مربوط عمل ہے، جبکہ امریکہ میں انتخابی قوانین کا معاملہ ہر ریاست کی اپنی حدود اور آئینی اختیارات سے جڑا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں ہونے والے انتخابات واقعی مکمل طور پر شفاف ہیں؟ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اکثر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور انتخابی عمل میں حکومتی اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، بھارتی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے بڑا اور محفوظ جمہوری عمل قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا بھارت کے نظام کی تعریف کرنا جہاں ان کی انتخابی مہم کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے، وہیں اس نے بھارت کی جمہوری ساکھ پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد امریکی ووٹرز کو یہ باور کرانا ہے کہ دنیا کے دیگر بڑے ممالک میں سخت قوانین رائج ہیں، لہذا امریکہ میں بھی ووٹنگ کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں کسی بھی ملک کے انتخابی قوانین کو اپنے مقاصد کے لیے بطور دلیل استعمال کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے، چاہے اس کے اثرات متعلقہ ملک کی داخلی سیاست پر ہی کیوں نہ مرتب ہوں۔