LIVE
Loading Breaking News...

ٹرینوں سے اربوں ڈالر کی چوری: جدید دور کا ایک نیا خطرہ

News Image
امریکہ میں مال بردار ٹرینوں کو جدید دور میں لوٹنے کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے جس کے باعث سالانہ 200 ملین ڈالر سے زائد کا سامان چوری ہو رہا ہے۔ حالیہ واقعات میں ڈکیتوں نے میمفس کے قریب ٹرینوں کو نشانہ بنایا جہاں سے قیمتی سامان باآسانی غائب کر دیا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے دور میں بھی ٹرینوں کو لوٹنے کا سلسلہ تھم نہ سکا، بلکہ اب یہ ایک بہت بڑی منظم صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں سی ایس ایکس کارپوریشن (CSX Corp) سمیت دیگر بڑی ریلوے کمپنیوں کی مال بردار ٹرینوں کو نشانہ بنا کر ہر سال تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کا سامان چوری کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ریلوے حکام بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین واقعات میمفس کے قریب پیش آئے، جہاں اندھیارے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکوؤں نے ایک منظم طریقہ کار اپنایا۔ تین افراد ایک سیاہ رنگ کی کیا سول (Kia Soul) گاڑی میں آئے اور رات کی تاریکی میں بڑی مہارت کے ساتھ ٹرین کی چھتوں پر چڑھ گئے۔ انہوں نے ٹرین کے کنٹینرز کے تالے توڑے اور قیمتی سامان نکال کر تیزی سے فرار ہو گئے۔ یہ وارداتیں اتنی تیزی سے سر انجام دی جاتی ہیں کہ سیکیورٹی عملے کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ ڈاکو نہ صرف سامان لوٹتے ہیں بلکہ کئی بار سامان کو راستے میں ہی گرا کر ٹرین کو حادثے سے دوچار کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ مال بردار ٹرینوں کے طویل روٹس اور ایسے مقامات ہیں جہاں سیکیورٹی کا نظام بہت کمزور ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق، یہ گروہ نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کام کرتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کون سے کنٹینر میں زیادہ قیمتی اشیاء جیسے الیکٹرانکس، کپڑے یا لگژری سامان موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ڈکیتیاں نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں بلکہ سپلائی چین کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کمپنیوں کو اب اپنی سیکیورٹی میں اضافے کے لیے جدید کیمروں اور جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم پر بھاری سرمایہ کاری کرنی پڑ رہی ہے۔ حکومت اور پولیس اب ان وارداتوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کر رہی ہے تاکہ ٹرینوں کے سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔ مقامی حکام نے ان علاقوں میں گشت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے ٹرینیں گزرتی ہیں اور جہاں اکثر ڈاکو گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف سیکیورٹی بڑھانے سے اس جدید ٹرین ڈکیتی کے واقعات پر قابو پایا جا سکے گا یا اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔