LIVE
Loading Breaking News...

روس میں موجود بھارتی طالب علم پر بہار پروٹیسٹ کا جھوٹا مقدمہ

News Image
روس میں تعلیم حاصل کرنے والے بہار سے تعلق رکھنے والے ایک بھارتی طالب علم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پر گھر پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ طالب علم کے مطابق جس وقت یہ مظاہرے ہوئے وہ روس میں موجود تھا۔
نئی دہلی اور ماسکو سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق روس میں تعلیم حاصل کرنے والے بہار کے ایک طالبعلم نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس کا نام ملک میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں غلط طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کافی عرصے سے روس میں موجود ہے اور وہاں اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کر رہا ہے، اس کے باوجود اس پر بہار میں ہونے والے مبینہ 'کاک روچ' احتجاج کے سلسلے میں قانونی کارروائی کی گئی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اس حیرت انگیز واقعے نے انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں کہ کس طرح ایک شخص جو ہزاروں میل دور دوسرے ملک میں مقیم ہے، اس کو مقامی احتجاجی مقدمے میں نامزد کر دیا گیا۔ طالب علم اور اس کے اہل خانہ نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے خلاف درج ہونے والے اس بے بنیاد اور فرضی مقدمے کو جلد از جلد خارج کیا جا سکے۔ دوسری جانب، اس معاملے کی خبر سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر آنے کے بعد مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں کہ اس غلطی کا ذمہ دار کون ہے اور آیا یہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے یا کسی کی ذاتی دشمنی کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ مقامی حلقوں میں اس خبر کے پھیلنے کے بعد شدید حیرت اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اور تمام حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ طالب علم کو فوری طور پر اس جھوٹے مقدمے سے بری کیا جائے تاکہ اس کے تعلیمی کیریئر اور مستقبل کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔