LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فضائیہ کے شام میں اہم اڈے پر حملے، عالمی ردعمل سامنے آ گیا

News Image
شام اور امریکہ دونوں کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل نے ادلب کے علاقے میں ایک شامی فوجی ہوائی اڈے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع ایک فوجی ہوائی اڈے پر مبینہ طور پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ شام اور امریکہ دونوں کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ یہ حملے ایک کلیدی تنصیب کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ امریکی ایلچی نے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں علاقائی تنازعات کو مزید ہوا دے سکتی ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، حملے کا نشانہ بننے والا ہوائی اڈہ شام کی عسکری صلاحیتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے شامی فضائیہ اپنے آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے ان حملوں پر ہمیشہ کی طرح فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ کارروائی شام میں ایرانی اثر و رسوخ اور حزب اللہ سے وابستہ اثاثوں کو کم کرنے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ ان فضائی حملوں کے بعد ترکی نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پڑوسی ملک کی حدود میں اس طرح کی فوجی جارحیت بین الاقوامی قوانین اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے یہ یکطرفہ حملے پہلے سے ہی جنگ زدہ شام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کے اثرات بدستور موجود ہیں۔ ادھر مقامی ذرائع کے مطابق، حملوں کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور شامی فضائی دفاعی نظام کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہلاکتوں یا فوجی نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی عینی شاہدین کے مطابق، فوجی ہوائی اڈے کے انفراسٹرکچر کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ عالمی طاقتیں اب اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ حملے محدود رہیں گے یا ان کے نتیجے میں شام اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔