LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئیں

News Image
امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والی ابتدائی مشاورت کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف تنازع کو ایک مختصر اور آسان جنگ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کا یہ ماننا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ سیدھی سادی اور بہت کم وقت میں ختم ہو جائے گی۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ بات اجاگر کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس تنازع کے ابتدائی مراحل میں ایک فوری اور فیصلہ کن نتیجہ کی توقع کی تھی، جسے وہ ایک محدود اور قابو میں رہنے والا آپریشن سمجھ رہے تھے۔ سفارتی اور عسکری حلقوں میں اس بات کا تخمینہ لگایا گیا تھا کہ اس مبینہ حکمت عملی کے تحت ایران کو جلد ہی دباؤ میں لایا جا سکتا ہے، جس سے خطے کی دوسری بڑی طاقتیں بھی حیران رہ گئیں۔ تاہم، زمینی حقائق اور خطے کی پیچیدہ صورتحال نے ان توقعات کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے عسکری اندازے اکثر اس وقت غلط ثابت ہوتے ہیں جب فریقین کی صلاحیتوں اور عزم کا درست ادراک نہیں کیا جاتا۔ واشنگتن اور تل ابیب میں اس حکمت عملی کے طویل مدتی اثرات پر اب نئے سرے سے غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس طرح کے تنازعات کی طوالت اور وسعت کے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ عسکری منصوبہ سازوں کی جانب سے اس قلیل مدتی کامیابی کے تخمینے نے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس سارے منظر نامے کے بعد دنیا بھر کے مبصرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک اپنی اس ابتدائی پالیسی میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا حالات کو مزید آگے بڑھایا جاتا ہے۔