World
روسی عسکری طاقت کا تصور اور یوکرین جنگ کی حقیقت
یوکرین کے خلاف روسی جارحیت نے طویل عرصے سے قائم اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ روسی فوج ناقابل شکست ہے۔ ماسکو کی جانب سے سوویت دور کے اسلحے اور جوہری طاقت کے بل بوتے پر کامیابی کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔
جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنی فوج کو یوکرین میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کریملن کو مکمل یقین تھا کہ سوویت دور کے وسیع ذخائر اور جوہری طاقت کے بل بوتے پر وہ جلد ہی یوکرینی مزاحمت کو کچل دیں گے۔ یورپی سلامتی کے بارے میں ماسکو کا یہ خود ساختہ مفروضہ تھا کہ روسی فوج کی بھاری تعداد اور جدید ہتھیاروں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تاہم، اس جنگ کے طویل عرصے تک جاری رہنے اور یوکرینی افواج کی جانب سے غیر متوقع مزاحمت نے اس تاثر کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ اسے ایک افسانوی شکست میں بدل دیا ہے۔
ماہرینِ عسکریات کے مطابق، یوکرین میں روسی فوج کی کارکردگی نے ان تمام تجزیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے جو روس کو دنیا کی دوسری بڑی طاقت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ میدانِ جنگ میں روسی فوجی سازوسامان کی ناکامی اور لاجسٹک مسائل نے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف تعداد اور جوہری طاقت جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ یوکرین نے مغربی ممالک سے ملنے والے جدید دفاعی نظام اور اپنی جنگی حکمت عملی کے ذریعے روسی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ متعدد محاذوں پر پسپا ہونے پر بھی مجبور کیا۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ روسی عسکری طاقت کے حوالے سے دنیا بھر میں جو ایک خوف اور رعب پایا جاتا تھا، وہ حقیقت سے کوسوں دور تھا۔
اس جنگ کے اثرات اب روس کی اپنی داخلی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی سطح پر روس کی عسکری ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کی تلافی کرنا ماسکو کے لیے آنے والے برسوں میں ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف طاقت کے اظہار سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، بہتر حکمت عملی اور قومی عزم کے ساتھ لڑی جاتی ہیں۔ یوکرین کی مزاحمت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی ملک چاہے کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو، ایک پرعزم قوم کو دبانے کے لیے صرف عسکری طاقت کافی نہیں ہوتی۔ روس کے لیے اب اپنی عسکری حیثیت کو بحال کرنا ایک ناممکن ہدف بنتا جا رہا ہے کیونکہ اس نے اپنی فوجی طاقت کے طلسم کو خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا ہے۔