World
غزہ میں حملے جاری، فلسطینیوں کا سیز فائر کی تردید
غزہ میں نئے اسرائیلی حملوں کے بعد فلسطینیوں نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کوئی سیز فائر نافذ نہیں ہوا۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ مسلسل بمباری کی زد میں ہیں۔
فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے نئے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بعد وہاں کے مکینوں نے واضح کیا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق کسی بھی قسم کا سیز فائر نافذ نہیں ہوا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود زمینی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور بمباری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
غزہ کے رہائشیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے لیے زندگی اجرت بن چکی ہے اور وہ ایک لمحے کے لیے بھی امن کا سانس نہیں لے پا رہے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے باعث ہزاروں خاندان پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور اب نئے حملوں نے ان کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی بشمول صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت نے انسانی بحران کو عروج پر پہنچا دیا ہے، جبکہ امدادی سامان کی ترسیل بھی تاحال بری طرح متاثر ہے۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم زمینی سطح پر اس کے کوئی عملی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ فلسطینی عوام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ مزید معصوم جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔