LIVE
Loading Breaking News...

آذربائیجان کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی پیش رفت

News Image
آذربائیجان اپنی معاشی انحصار کو تیل سے ہٹا کر ٹیکنالوجی سیکٹر پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ گزشتہ برس ملکی اسٹارٹ اپس نے 2.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر کے اس شعبے میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔
آذربائیجان، جو طویل عرصے سے اپنے وسیع تر ہائیڈرو کاربن ذخائر کے لیے عالمی سطح پر مشہور رہا ہے، اب اپنی معاشی سمت کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کسی بھی تیل پیدا کرنے والے ملک کی طرح آذربائیجان کو بھی یہ ادراک ہو چکا ہے کہ قدرتی وسائل ہمیشہ کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اب اپنی توجہ روایتی تیل اور گیس کی صنعت سے ہٹا کر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل جدت طرازی کی طرف مبذول کر لی ہے۔ ماضی میں آذربائیجان کی معاشی پیداوار کا تقریباً 75 فیصد حصہ ہائیڈرو کاربن سے حاصل ہوتا تھا، جبکہ ملکی برآمدات کا 90 فیصد اسی شعبے پر منحصر تھا، تاہم اب ایک نئی حکمت عملی پر کام شروع کیا گیا ہے۔ اس نئے وژن کے تحت آذربائیجان خود کو خطے کے ایک بڑے ٹیکنالوجی مرکز (Tech Hub) کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، جہاں ملکی اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 2.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ رقم اگرچہ عالمی معیار کے مقابلے میں ابتدائی ہے، لیکن آذربائیجانی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیک پارکس کے قیام، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوان انٹرپرینیورز کے لیے مراعاتی پیکجز کا اعلان اس تبدیلی کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق آذربائیجان کے پاس ایک پڑھے لکھے نوجوان آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے جو تکنیکی مہارتوں کو اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکومتی سطح پر 'ڈجیٹل آذربائیجان' کا نعرہ اب عملی شکل اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ ٹیک انکیوبیٹرز اور ایکسلریٹر پروگرامز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی مل سکے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی ملک میں دفاتر قائم کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کی جی ڈی پی میں بھی ٹیکنالوجی کا حصہ بتدریج بڑھے گا۔ آنے والے برسوں میں آذربائیجان کا ٹیکنالوجی مرکز بننے کا سفر آسان تو نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ تاہم، ابتدائی کامیابیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک اب تیل پر مبنی معیشت سے نکل کر ایک جدید اور متنوع معیشت کی جانب گامزن ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آذربائیجان وسطی ایشیا اور قفقاز کے خطے میں ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک اہم مرکز بن کر ابھرے گا، جو ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔