LIVE
Loading Breaking News...

کیلیفورنیا سے ٹیکساس منتقلی: سی ای او نے سخت ٹیکس پالیسیوں پر تنقید کی

News Image
ڈیجیٹل برانڈز گروپ کے سی ای او ہل ڈیوس نے کیلیفورنیا میں کاروبار کرنے کو مشکل ترین قرار دیتے ہوئے اپنی کمپنی ٹیکساس منتقل کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے بھاری ٹیکس اور پیچیدہ ضوابط کاروبار کے لیے سازگار نہیں ہیں۔
کیلیفورنیا کی ریاست میں کاروباری ماحول کے حوالے سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ڈیجیٹل برانڈز گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ہل ڈیوس نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنی کمپنی کو کیلیفورنیا سے ٹیکساس منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ ڈیوس کا کہنا ہے کہ ریاست میں ٹیکسوں کی شرح انتہائی زیادہ ہے اور وہاں کاروبار چلانا اب ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کیلیفورنیا میں کاروبار کرنا انتہائی مایوس کن ہے اور وہاں کی پالیسیاں کمپنیوں کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ ہل ڈیوس کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہت سے دیگر کاروباری افراد بھی کیلیفورنیا کی سخت ضوابط اور مالی بوجھ کے باعث ریاست چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ ڈیوس کے مطابق ٹیکساس ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جو کاروباری ترقی کے لیے سازگار ہے اور وہاں کے مالیاتی قوانین کیلیفورنیا کی نسبت کہیں زیادہ لچکدار اور دوستانہ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاست میں بے تحاشہ ٹیکسوں نے نہ صرف منافع کو متاثر کیا ہے بلکہ آپریشنل اخراجات کو بھی ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے، جس سے چھوٹی اور بڑی کمپنیوں کو اپنی بقا کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیک کمپنیوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کی ٹیکساس کی جانب نقل مکانی کیلیفورنیا کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ کیلیفورنیا طویل عرصے تک جدت اور کاروبار کا مرکز رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ٹیکسوں کی بھرمار اور مہنگائی نے بڑے کاروباری ناموں کو دوسرے راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہل ڈیوس کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ریاستوں نے اپنے کاروباری قوانین کو مزید آسان نہ بنایا تو مستقبل میں مزید کمپنیاں بھی اپنے ہیڈ کوارٹرز دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے پر غور کریں گی۔ آخر میں، اس منتقلی کے عمل سے کمپنی کے ورک کلچر اور ملازمین پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، تاہم انتظامیہ کا موقف ہے کہ طویل المدتی کاروباری استحکام کے لیے یہ ایک ضروری قدم تھا۔ ٹیکساس میں کاروبار دوست پالیسیوں کا فروغ مسلسل جاری ہے، جس کی وجہ سے یہ ریاست اب امریکہ میں نئے کاروباری مراکز کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ ڈیوس جیسے سی ای اوز کا یہ اقدام امریکی معاشی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتا ہے، جہاں اب ریاستوں کے درمیان ٹیکس اور سہولیات کے حوالے سے مسابقت بڑھتی جا رہی ہے۔