Business
ایل تھری ہیرس کے سی ای او کرسٹوفر کوباسک برطرف، سیم مہتا نئے سربراہ
دفاعی ٹھیکیدار کمپنی ایل تھری ہیرس نے اپنے سی ای او کرسٹوفر کوباسک کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر برطرف کر دیا ہے۔ کمپنی نے فوری طور پر سیم مہتا کو عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر نامزد کیا ہے۔
امریکی دفاعی ٹھیکیدار کمپنی 'ایل تھری ہیرس ٹیکنالوجیز' نے اپنے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کرسٹوفر کوباسک کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ فیصلہ ایک اندرونی تحقیقات کے بعد کیا گیا جس میں یہ ثابت ہوا کہ کوباسک کا رویہ اور اقدامات کمپنی کے طے شدہ ضابطہ اخلاق کے برعکس تھے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے فوری طور پر ان کی خدمات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کمپنی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ اصل خلاف ورزی کی نوعیت کیا تھی، تاہم اسے انتظامی سطح پر ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
کرسٹوفر کوباسک کی جگہ ایل تھری ہیرس نے فوری طور پر سیم مہتا کو عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر نامزد کیا ہے۔ سیم مہتا کمپنی کے ایک تجربہ کار ایگزیکٹو ہیں اور اس سے قبل وہ کمپنی کے مختلف اہم شعبوں میں قیادت کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کی تقرری کا مقصد اس عبوری دور میں کمپنی کے آپریشنز کو مستحکم رکھنا اور دفاعی معاہدوں کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ سیم مہتا کو کمپنی کے اندرونی معاملات اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں گہری مہارت رکھنے والا افسر سمجھا جاتا ہے۔
ایل تھری ہیرس ٹیکنالوجیز امریکی دفاعی بجٹ اور عالمی سطح پر ہتھیاروں کی فراہمی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے میں سی ای او کی اچانک تبدیلی کا اثر کمپنی کے حصص اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑنا فطری عمل ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیم مہتا کے لیے سب سے بڑا چیلنج کمپنی کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور پینٹاگون کے ساتھ جاری بڑے معاہدوں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھنا ہوگا۔ کمپنی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وہ کارپوریٹ گورننس کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی سطح پر اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس تبدیلی کے بعد اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ایل تھری ہیرس مستقل بنیادوں پر سیم مہتا کو ہی سی ای او برقرار رکھتی ہے یا کمپنی کے بورڈ کی جانب سے کسی نئے امیدوار کی تلاش شروع کی جائے گی۔ فی الحال مارکیٹ اور اسٹیک ہولڈرز سیم مہتا کی قیادت میں کمپنی کے اگلے اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ کمپنی کی انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ اس تبدیلی کے باوجود کمپنی کے اہداف اور ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے مشن میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔