LIVE
Loading Breaking News...

میکسیکو سیاحت پر سمندری گھاس سَرگاسَم کے اثرات

News Image
میکسیکو کے خوبصورت ساحلی علاقوں میں بھورے رنگ کی بدبودار سمندری گھاس سَرگاسَم کی غیر معمولی مقدار جمع ہو گئی ہے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ملک کی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا لگا ہے اور سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
میکسیکو کے مشہور اور دلکش ساحلوں پر ان دنوں ایک نئی اور تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جہاں بھورے رنگ کی بدبودار سمندری گھاس سَرگاسَم نے ساحلی پٹی کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا ہے۔ یہ سمندری گھاس ایک طویل عرصے سے خطے کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں اس کی مقدار میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے مقامی حکام اور کاروباری شخصیات کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ گھاس جب ساحل پر پہنچتی ہے تو نہ صرف اپنی بدبو کی وجہ سے ماحول کو خراب کرتی ہے بلکہ ساحلی پانی کے نیلے رنگ کو بھی گدلا کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے سیاحوں کے لیے تیرنا اور سمندری مناظر سے لطف اندوز ہونا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر میکسیکو کی سیاحتی صنعت پر پڑ رہا ہے جو ملکی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے میکسیکو کے ساحلوں کا رخ کرنے والے سیاح اب ہوٹل کی بکنگ منسوخ کر رہے ہیں یا متبادل مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں۔ مقامی ہوٹل مالکان، ٹور آپریٹرز اور ریستوران چلانے والے افراد اس بحران کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی کی وجہ سے ان کے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ساحلوں سے اس بھاری مقدار میں جمع ہونے والی گھاس کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری اور مزدوروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ جلد از جلد ساحلوں کو صاف کیا جا سکے۔ تاہم، سَرگاسَم کی اتنی بڑی مقدار کو ٹھکانے لگانا اور ساحلوں کو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں بحال کرنا ایک انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اس طرح کی سمندری گھاس کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اگر اس حوالے سے کوئی پائیدار حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو آنے والے برسوں میں میکسیکو سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی طرح کے سنگین ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔