Health
پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کی لازمی سکریننگ کا اعلان
وفاقی وزارتوں کے ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ ملک بھر میں لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اہم صحت کی پہل کا مقصد خطرناک بیماری کی بروقت تشخیص اور روک تھام ہے۔
اسلام آباد: حکومت پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں ایک اہم اور خوش آئند قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی طور پر سرکاری اور وفاقی وزارتوں کے ملازمین کو اس لازمی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مرض کی جڑ سے بیخ کنی کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ صحت کے عملے اور دیگر وفاقی اداروں کے ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کے ٹیسٹ لازمی قرار دیے جا چکے ہیں، جس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ماہرینِ صحت طویل عرصے سے اس بات پر زور دے رہے تھے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس موذی مرض پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر سکریننگ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومتی اقدام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کا مقصد بیماری کی ابتدائی مراحل میں تشخیص کرنا ہے۔ بروقت تشخیص سے نہ صرف مریض کا علاج آسان ہو جاتا ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی بڑی حد تک مدد ملتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسکولوں، دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر بھی اس بیماری سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ وفاقی سطح پر ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے بعد اس دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ صوبائی سطح پر بھی تمام سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کو اس میں شامل کیا جا سکے۔ اس اقدام کو طبی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے عوامی صحت کے بہتری کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔