LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر حملہ، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

News Image
آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر تازہ ترین حملے کے بعد تیل کی عالمی قیمتیں جولائی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بات چیت طے شدہ ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جولائی کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ہونے والا تازہ ترین حملہ ہے۔ اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی منڈی کے سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس پیشرفت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سابق سفارت کاروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی امور پر امریکی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اس حملے کے بعد ایران کے ساتھ تمام مذاکرات روک دیے گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت تہران کے ساتھ کوئی بات چیت جاری ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی شیڈول طے ہے۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے اس ماحول نے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑیں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کی سپلائی لائن کو محفوظ بنایا جا سکے اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکا جا سکے کیونکہ اس کا خمیازہ عام صارفین کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔