LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں غاروں میں رہنے والے فلسطینیوں کی داستان

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں فرحان الرشیدہ نامی ایک فلسطینی شہری اپنی فیملی کے ہمراہ ایک قدیم غار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ غار اسرائیل کے قیام سے بھی زیادہ قدیم ہے اور فلسطینیوں کی مشکلات کی ایک خاموش گواہی دیتا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں ایک ایسی حقیقت موجود ہے جو جدید دنیا کے ترقیاتی دعووں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ فرحان الرشیدہ نامی ایک فلسطینی شہری اپنی زندگی کے کئی سال ایک ایسی غار میں گزار چکے ہیں جو نہ صرف جدید سہولیات سے عاری ہے بلکہ تاریخ کے قدیم ترین ادوار کی یاد دلاتی ہے۔ یہ غار اسرائیل کے قیام سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے، مگر آج یہ ایک فلسطینی خاندان کا واحد مسکن ہے جہاں وہ شدید سردی، گرمی اور بنیادی انسانی حقوق کی کمی کے باوجود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ فرحان الرشیدہ کی زندگی کی کہانی محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ یہ ان ہزاروں فلسطینیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو مقبوضہ علاقوں میں اپنی زمینوں سے محروم ہونے کے بعد سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ ہی بجلی کا کوئی بندوبست، جس کی وجہ سے ان کا طرزِ زندگی قرونِ وسطیٰ کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ اس غار میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود، اس خاندان کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی آبائی زمینوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، چاہے حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس جانب توجہ مبذول کروا چکی ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے لیے رہائشی حالات کس قدر ابتر ہو چکے ہیں۔ فرحان الرشیدہ کا یہ غار، جو کہ ایک تاریخی مقام بھی ہو سکتا تھا، آج ایک زندہ جیل کے مترادف ہے۔ اس غار کی دیواریں نہ صرف پتھر کی ہیں بلکہ یہ اس ظلم و جبر کی خاموش گواہ بھی ہیں جو دہائیوں سے ان فلسطینی خاندانوں پر توڑا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی انسانوں کو غاروں میں رہنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔ فرحان الرشیدہ کی یہ زندگی ایک طویل جدوجہد کا نام ہے۔ جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ جاری ہے، وہیں دوسری طرف مغربی کنارے کے پہاڑوں میں بسنے والا یہ خاندان صرف ایک سر چھپانے کی جگہ کے لیے کوشاں ہے۔ ان کی کہانی نہ صرف فلسطین کے سیاسی بحران کو اجاگر کرتی ہے بلکہ انسانیت کے ان بنیادی تقاضوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے جن سے فلسطینی عوام کو مسلسل محروم رکھا گیا ہے۔