World
اسرائیلی آباد کاروں کا محاصرہ، لوئی ریدی کی پریشانی میں اضافہ
مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی نے اپنی اور اپنے خاندان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آباد کار بلا خوف و خطر گھروں کے گرد گھوم رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا سے تعلق رکھنے والے فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی نے علاقے میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی آباد کاروں کے جارحانہ اقدامات اور اپنے خاندان کی جان کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لوئی ریدی کا کہنا ہے کہ ان کے گھر اور پورے علاقے کو آباد کاروں نے ایک طرح سے محاصرے میں لے رکھا ہے، جو بلا خوف و خطر اور مکمل آزادی کے ساتھ فلسطینیوں کی رہائش گاہوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں۔
ریدی کے مطابق، آباد کاروں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے بچوں بلکہ پورے خاندان کے لیے معمول کی زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں کیونکہ مقامی آبادی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔ لوئی ریدی کا کہنا ہے کہ یہ آباد کار کھلے عام ہتھیاروں کی نمائش کرتے ہیں اور انہیں کسی قانونی کارروائی کا خوف نہیں ہے، جو اس علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بہت بڑا نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا باعث ہے۔
مقامی سطح پر کی گئی رپورٹوں کے مطابق، قصرا میں صورتحال دن بدن کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ فلسطینی دیہاتوں کے گرد آباد کاروں کی نقل و حرکت اکثر پرتشدد جھڑپوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مقامی فلسطینی رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ لوئی ریدی کا کیس ان سیکڑوں فلسطینی خاندانوں کی کہانی بیان کرتا ہے جو اپنی ہی زمین پر غیر ملکی آباد کاروں کی مسلسل مداخلت اور جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال بین الاقوامی قانون کے منافی ہے جہاں ایک طاقتور گروہ کمزور آبادی کو ہراساں کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ لوئی ریدی، جو کہ امریکی شہریت رکھنے کے باوجود اپنی آبائی سرزمین پر عدم تحفظ کا شکار ہیں، اب عالمی سطح پر حکومتی مداخلت کے منتظر ہیں تاکہ وہ اور ان کا خاندان پرامن ماحول میں اپنی زندگی گزار سکیں۔ مقامی فلسطینی رہنماؤں نے بھی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان آباد کاروں کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔