Business
اے آئی کے نئے ارب پتی افراد کی لگژری مارکیٹ میں دلچسپی
مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ نئے ارب پتی افراد اپنی طرز زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لا رہے ہیں جس سے لگژری مارکیٹ کے رجحانات بدل گئے ہیں۔ یہ نیا طبقہ روایتی تعیش کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور منفرد سہولیات کو ترجیح دے رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے دولت کمانے والے افراد کا ایک نیا طبقہ اب عالمی لگژری مارکیٹ کے رجحانات کو بڑی حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ یہ 'اے آئی سپر رچ' افراد نجی جیٹ طیاروں، بحری کشتیوں (یاٹس) اور مہنگی کاروں کی خریداری کے حوالے سے بالکل نئے تقاضے سامنے لائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیا طبقہ روایتی امیر طبقے کے برعکس ایک منفرد طرز زندگی کو ترجیح دیتا ہے جو ٹیکنالوجی اور فعالیت پر مبنی ہے۔ پرانے وقتوں میں پرتعیش سفر کے لیے شیمپین اور کرسپی لینن ٹیبل کلاتھ جیسی چیزیں 'گولڈن سٹینڈرڈ' سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب یہ تصورات کافی حد تک ختم ہو چکے ہیں۔
نئے دور کے یہ ارب پتی افراد اپنے نجی جیٹ طیاروں کے اندر ایسے ماحول کے متلاشی ہیں جو ان کی مصروف کاروباری زندگی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ ان طیاروں میں اب اعلیٰ معیار کے وائی فائی سسٹمز، جدید آفس سیٹ اپس اور پرسکون ورک اسپیس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ اب روایتی ضیافتوں کے بجائے پرواز کے دوران پیداواری صلاحیت کو بڑھانے والی سہولیات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لگژری جیٹ بنانے والی کمپنیاں اب اپنے اندرونی ڈیزائن اور سہولیات میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہیں تاکہ اس نئے طبقے کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
صرف ہوا بازی ہی نہیں بلکہ لگژری کاروں اور بحری کشتیوں کی صنعت پر بھی اس تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب کاروں میں خودکار ڈرائیونگ فیچرز، سمارٹ کنیکٹوٹی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طلب بڑھ رہی ہے۔ یہ نئے امیر افراد ایسی اشیاء میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو نہ صرف ان کے اسٹیٹس کی عکاس ہوں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار بھی ہوں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دولت کی منتقلی کے ساتھ ساتھ عیش و آرام کی تعریف بھی بدل رہی ہے، جہاں اب 'سکون' اور 'ٹیکنالوجی' ہی سب سے بڑی لگژری بن چکی ہے۔
اس تبدیلی نے لگژری مصنوعات فروخت کرنے والے برانڈز کو بھی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ کمپنیاں جو ماضی کے روایتی معیارات پر قائم تھیں، اب تیزی سے جدیدیت کی طرف گامزن ہیں۔ یہ نیا رجحان آنے والے برسوں میں نہ صرف آٹوموبائل بلکہ رئیل اسٹیٹ اور پرتعیش سیاحت کے شعبوں میں بھی نمایاں نظر آئے گا، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دولت کمانے والے یہ افراد ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں سہولیات کا محور جدید ترین اختراعات ہیں۔