World
اردن اور عراق میں حملے: کیا مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیل رہی ہے؟
امریکہ نے اردن میں اپنے فوجیوں پر ہونے والے ایک اچانک ایرانی حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے بعد خطے میں ایک بڑی اور وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اردن میں امریکی افواج پر ہونے والے ایک اچانک ایرانی حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ اس حالیہ واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے براہ راست حملے اور جوابی کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب عراق میں بھی کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی جہاں مبینہ طور پر امریکہ اور سعودی عرب سے وابستہ عسکری تحركات اور کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے کے مختلف حصوں میں جاری ان مسلح تصادموں نے عالمی رہنماؤں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ ایک تباہ کن علاقائی جنگ سے بچا جا سکے جو عالمی معیشت اور سلامتی کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔اس سارے تنازع کے تناظر میں عامۃ الناس اور عالمی برادری کی نظریں امریکہ اور ایران کے اگلے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر سفارتی ذرائع سے اس آگ کو بجھانے میں کامیابی حاصل نہ کی گئی تو یہ محاذ آرائی مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام فریقین ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور عسکری کارروائیوں کو فوری طور پر بند کر کے بات چیت کا راستہ اختیار کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔