Technology
ایپل آئی فون لانچنگ: ستمبر کا روایتی شیڈول خطرے میں
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل رواں سال اپنے آئی فون لانچنگ کے روایتی ستمبر شیڈول میں بڑی تبدیلی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی مارکیٹ حکمت عملی اور سرمایہ کاروں کی توقعات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ایپل گزشتہ دو دہائیوں سے ستمبر کے مہینے میں اپنے نئے آئی فون ماڈلز متعارف کروانے کی روایت پر کاربند ہے۔ تاہم، حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایپل اب اس روایتی شیڈول کو تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ خبر سرمایہ کاروں اور صارفین کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ آئی فون کا سالانہ لانچ سائیکل کمپنی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اور ایک اہم کاروباری علامت سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل اس تبدیلی کے ذریعے اپنی سپلائی چین کے دباؤ کو کم کرنے اور پروڈکٹ ریلیز کے عمل کو زیادہ لچکدار بنانے کا خواہاں ہے۔ 54 بلین ڈالر سے زائد مالیت کی یہ آئی فون مشینری اب عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معاشی حالات اور ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لانچ کے طریقہ کار میں ردوبدل کرنے پر مجبور ہے۔ ستمبر کا مہینہ، جو روایتی طور پر ایپل کے لیے 'نئے آئی فون' کا مترادف رہا ہے، اب ایک نئی حکمت عملی کے تحت تبدیل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایپل واقعی اپنے آئی فون لانچنگ کے شیڈول کو تبدیل کرتا ہے تو اس کے اثرات براہ راست کمپنی کے شیئر ہولڈرز اور عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ پر پڑیں گے۔ ایپل کی جانب سے اس ممکنہ تبدیلی کا مقصد اپنی سیلز کو پورے سال میں تقسیم کرنا اور موسم گرما کے دوران مارکیٹ میں سستی کو ختم کرنا ہو سکتا ہے۔ فی الحال، کمپنی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس خبر پر بحث کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
مستقبل میں ایپل کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف اس کے روایتی کاروباری ماڈل کو تبدیل کرے گا بلکہ حریف کمپنیوں کے لیے بھی ایک نیا چیلنج ہوگا۔ صارفین یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ کیا ایپل واقعتاً اپنی اس دو دہائیوں پرانی روایت کو ختم کر کے کوئی نیا راستہ اختیار کرے گا یا پھر ستمبر کا مہینہ بدستور ایپل کے لیے سب سے اہم رہے گا۔ آنے والے مہینوں میں ایپل کی نئی حکمت عملی واضح ہو جائے گی، جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔