Sports
فیفا ورلڈ کپ حصص فروخت کرنے کا منصوبہ: اہم تفصیلات اور تنقید
فیفا کے صدر گیانی انفانتینو اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کے منصوبے پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس متنازعہ منصوبے کی وجہ سے فیفا کو یوئیفا اور برطانوی وزیراعظم سمیت کئی اہم شخصیات کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
عالمی فٹبال کی نگران تنظیم فیفا کے صدر گیانی انفانتینو اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ورلڈ کپ میں اپنے حصص فروخت کرنے کے نئے اور متنازعہ منصوبے نے فٹبال کے عالمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ فیفا کے اس مجوزہ اقدام پر کئی اہم حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس سے تنظیم کی مالیاتی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت فٹبال ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق اور دیگر حصص کو نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو کہ روایتی کھیلوں کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس مجوزہ پیش رفت نے نہ صرف روایتی فٹبال شائقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ بڑے خطاتی فٹبال بورڈز اور سیاسی رہنماؤں کو بھی اس پر شدید اعتراضات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یورپی فٹبال ایسوسی ایشن یوئیفا نے بھی اس پیش رفت کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور اسے کھیل کے بنیادی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ یوئیفا کا مؤقف ہے کہ فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ کو نجی سرمایہ کاری کے خطرات میں دھکیلنا کھیل کی روح کے منافی ہے اور اس سے اس کی طویل مدتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کے نئے وزیراعظم نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فٹبال جیسے مقبول ترین کھیل میں نجی تجارتی مفادات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا کھیلوں کے ضابطہ اخلاق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر اٹھائے گئے سوالات نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سیاسی اور کھیلوں کے پلیٹ فارمز پر ایک اہم بحث بنا دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے فٹبال کے کھیل پر سے شائقین کا اعتماد کم ہو سکتا ہے اور یہ کھیل چند کاروباری شخصیات کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر رہ جائے گا۔ فیفا کی انتظامیہ کو اس وقت دنیا بھر سے بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس منصوبے پر نظرثانی نہ کی گئی تو یہ فیفا کی مستقبل کی پالیسیوں کے لیے ایک بہت بڑا بحران بن سکتا ہے۔