World
اوڈیشہ میں آسمانی بجلی سے ہلاکتوں کی شرح میں تشویشناک اضافہ
بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں گزشتہ 18 برسوں کے اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ آسمانی بجلی گرنے سے پانچ ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تحقیق میں معدنیات والے اضلاع اور آبادی کے گنجان علاقوں کو اس قدرتی آفت سے زیادہ متاثر قرار دیا گیا ہے۔
بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں گزشتہ 18 برسوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں کل 5721 افراد آسمانی بجلی کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ ماحولیاتی سائنسدانوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ ان واقعات میں تسلسل کے ساتھ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں زیادہ تر دیہی علاقوں اور کھلے میدانوں میں کام کرنے والے کسانوں کی ہوتی ہیں جو بروقت پناہ گاہوں تک نہیں پہنچ پاتے۔
تحقیق کے نتائج میں ایک اہم انکشاف یہ ہوا ہے کہ اوڈیشہ کے وہ اضلاع جو معدنی وسائل سے مالا مال ہیں، وہاں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات اور اموات کی شرح دیگر خطوں کی نسبت کافی زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے نیچے موجود معدنیات اور مقناطیسی خصوصیات آسمانی بجلی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کی وجہ سے ان مخصوص علاقوں میں انسانی جانوں کو زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، آبادی کی گنجانیت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی ان ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔
محققین نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاست میں آسمانی بجلی سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان تجاویز میں حساس علاقوں میں 'لائٹننگ کنٹرول سسٹم' کی تنصیب، عوامی آگاہی مہمات کا انعقاد، اور کھیتوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے بروقت انتباہی نظام شامل ہیں۔ ضلعی سطح پر ایسے پناہ گاہوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں طوفانی صورتحال میں کسان اور مزدور خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں اور گرج چمک کے پیٹرن میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے آسمانی بجلی کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو قدرتی آفات کی فہرست میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کرے اور متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے۔ اگر ان احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے تو مستقبل میں ایسی المناک ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔