LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میکسیکو بارڈر وال: قدرتی ورثے اور ماحولیات پر منفی اثرات

News Image
ایریزونا کے سرحدی علاقے میں تعمیر کی جانے والی دیوار مقامی ماحولیات اور قدیم درختوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ مقامی باشندے اس تعمیر کو تاریخی ورثے اور قدرتی حیات کے خلاف ایک اقدام قرار دے رہے ہیں۔
ایریزونا کے سابق کان کنی والے قصبے پیٹاگونیا سے تقریباً 22 میل جنوب کی جانب ایک غیر ہموار اور بل کھاتے پہاڑی راستے پر، ایک قدیم کاٹن وڈ کا درخت موجود ہے جسے مقامی لوگ 'دادی درخت' (Grandmother Tree) کہتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ درخت کم از کم دو سو سال پرانا ہے اور اس علاقے کی تاریخی اور ماحولیاتی اہمیت کا ایک اہم نشان ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبے نے اس قدیم ورثے اور ارد گرد کے حساس ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ دیوار کی تعمیر کے لیے بھاری مشینری اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل نے اس خاموش اور سرسبز علاقے کے سکون کو تہس نہس کر دیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ دیوار نہ صرف قدرتی حیات کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ ان قدیم درختوں کی جڑوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے جو صدیوں سے یہاں موجود ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سرحد پر باڑ اور دیوار کی تعمیر سے مقامی جنگلی حیات کے قدرتی راستے مسدود ہو رہے ہیں، جس سے حیاتیاتی تنوع پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ دیوار کی تعمیر کے عمل کے دوران زیر زمین پانی کے ذخائر اور مٹی کے کٹاؤ جیسے مسائل بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ دیوار سیاسی مقاصد کے لیے تو تعمیر کی جا رہی ہے لیکن اس کی بھاری قیمت مقامی ماحولیات اور تاریخی ورثے کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اس تناظر میں، مقامی کمیونٹی اور ماحولیاتی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیراتی کاموں کے دوران ان حساس علاقوں اور قدیم درختوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس قدرتی خزانے سے مستفید ہو سکیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا سیکیورٹی کے نام پر قدرتی حسن اور ماحول کو قربان کرنا عقلمندی ہے یا یہ ایک بڑی غلطی ثابت ہوگی۔