World
ایران کے حالیہ حملے اور اسرائیل میں امریکی فوجی اثاثوں کی موجودگی
ایران نے خطے میں امریکی فوجی سازوسامان اور اثاثوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا سخت جواب دینے کے لیے یہ حملے کیے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر تناؤ کی لہر دوڑ گئی ہے جب ایران کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کے مقاصد کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران نے یہ اقدامات خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی اور اسرائیل میں جمع ہونے والے عسکری اثاثوں کے جواب میں ایک واضح پیغام دینے کے لیے اٹھائے ہیں۔ تہران کا یہ موقف ہے کہ خطے میں غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت اور جارحانہ پیش قدمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے خطرات کے پیش نظر عالمی رہنماؤں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں اطراف سے سفارتی ذرائع سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ محاذ آرائی پوری دنیا بالخصوص عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نگاہیں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دونوں ممالک کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں، جبکہ اتحادی طاقتیں بھی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مشاورت کر رہی ہیں۔