LIVE
Loading Breaking News...

بچوں میں بڑھتا ہوا تشدد: کمشنر برائے اطفال کا بڑا بیان

News Image
برطانیہ کی کمشنر برائے اطفال نے حکومتی انسداد دہشت گردی پروگرام میں بچوں کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد خیالات رکھنے والے بہت سے بچوں کو سزا یا سخت اقدامات کے بجائے مناسب سماجی اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔
برطانیہ کی کمشنر برائے اطفال ڈیم ریچل ڈی سوزا نے ایک اہم بیان میں انتباہ جاری کیا ہے کہ حکومتی انسداد دہشت گردی پروگرام میں بھیجے جانے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں اس پروگرام کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں درحقیقت خصوصی توجہ اور نفسیاتی مدد درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈال کر ان کے مستقبل کو مزید تاریک کرنے کے بجائے ان کے مسائل کی جڑ تک پہنچنا زیادہ ضروری ہے۔ کمشنر کے مطابق، بہت سے بچے جو تشدد یا انتہا پسندی سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہیں، وہ دراصل سماجی مسائل، تنہائی یا ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں انسداد دہشت گردی کے سخت نظام میں شامل کرنے سے ان کی بہتری کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ایسے بچوں کو کڑی نگرانی میں رکھنے کے بجائے انہیں تعلیمی اور سماجی خدمات کے ذریعے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسکولوں اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کے رویوں کی درست تشخیص کریں تاکہ انہیں بروقت اصلاحی پروگرامز کا حصہ بنایا جا سکے۔ ڈیم ریچل ڈی سوزا نے مزید کہا کہ جب کسی بچے کو غلطی سے انتہا پسندی کے لیبل کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، تو اس کے نفسیاتی اثرات گہرے اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔ یہ عمل بچے کو مزید باغی بنا سکتا ہے جو کہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ حکومتی پروگراموں کو لچکدار ہونا چاہیے تاکہ وہ بچوں کی انفرادی ضروریات کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیں تاکہ بچوں کو تشدد کی طرف مائل ہونے سے بچانے کے لیے زیادہ انسانی اور علمی طریقہ کار اپنایا جا سکے۔ آخر میں، کمشنر نے والدین اور اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کے لیے پرامن مکالمے کی فضا قائم کریں۔ اگر کوئی بچہ پرتشدد مواد یا خیالات میں دلچسپی لے رہا ہو، تو اسے فوری طور پر ایک مجرم کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ایک ایسی شخصیت کے طور پر دیکھا جائے جسے رہنمائی اور محبت کی ضرورت ہے۔ یہ حکومتی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نسل نو کو انتہا پسندی کی دلدل میں گرنے سے بچائیں اور انہیں محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کریں۔