LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی: پاجارو وادی میں سیلاب کی پیش گوئی اور حفاظتی اقدامات

News Image
یو سی برکلے کے محققین کیلیفورنیا کی لوئر پاجارو وادی کا ایک ڈیجیٹل ماڈل تیار کر رہے ہیں تاکہ سیلابی پانی کے بہاؤ اور حفاظتی بندوں کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں تباہ کن سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کیلیفورنیا کے دریائے پاجارو کی وادی گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل سیلابی ریلوں کی زد میں رہی ہے۔ سن 1949 میں تعمیر کیے گئے حفاظتی بندوں کے باوجود، علاقے نے پانچ بڑے سیلابی واقعات دیکھے ہیں جن میں سے 2023 میں آنے والا سیلاب خاص طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ اس واقعے میں حفاظتی بند ٹوٹنے کے صرف تین گھنٹوں کے اندر پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو تقریباً 300 ملین ڈالر کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس صورتحال نے حکام اور ماہرین کو مجبور کیا ہے کہ وہ روایتی حفاظتی اقدامات سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیں۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین نے ایک جدید اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ یہ ماہرین 'ڈیجیٹل ٹوئن' (Digital Twin) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لوئر پاجارو ریور ویلی کا ایک مکمل ڈیجیٹل ماڈل تیار کر رہے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل ٹوئن زمین کے جغرافیائی حالات، آبی گزرگاہوں کے پیچیدہ نظام اور حفاظتی ڈھانچوں کا ایک ہو بہو ورچوئل عکس ہے۔ اس ماڈل کی بدولت محققین یہ جان سکیں گے کہ اگر مستقبل میں سیلاب آتا ہے تو پانی کس رفتار سے اور کس راستے سے آبادیوں کی طرف بڑھے گا، جس سے مقامی حکام کو بروقت انخلا کے فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، یہ ورچوئل ماڈل انجینئرز کو یہ جانچنے کا موقع بھی فراہم کرے گا کہ نئے حفاظتی بندوں یا مصنوعی رکاوٹوں کے تعمیر کرنے سے سیلاب کے پانی کا رخ کس حد تک بدلا جا سکتا ہے اور نقصانات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تجربات اصل زمین پر کرنے کی بجائے کمپیوٹرائزڈ ماحول میں کیے جا رہے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیلاب کے خطرات کو تب تک مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے جب تک اسے عملی طور پر نہ دیکھا جائے، اور یہ ڈیجیٹل ماڈل مقامی لوگوں اور پالیسی سازوں کو سیلاب کے تباہ کن اثرات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد نہ صرف ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک ایسا حفاظتی پلان ترتیب دینا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید بارشوں کی صورت میں انسانی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، یہ نہ صرف کیلیفورنیا بلکہ دنیا بھر کے ان علاقوں کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوگی جو دریائی سیلابوں کے مستقل خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ محققین کی یہ کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جدید ڈیٹا سائنس اور انجینئرنگ کے امتزاج سے قدرتی آفات کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔