World
امریکہ سے ڈی پورٹ شدہ جوڑا گوئٹے مالا میں قتل
امریکی محکمہ امیگریشن کے تحت گزشتہ سال گوئٹے مالا ڈی پورٹ کیے جانے والے نکسن جیووانی پاز اور ان کی اہلیہ کو بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا ہے۔ میاں بیوی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر گولیاں ماری گئیں، جس سے سکیورٹی اور تارکین وطن کے حقوق پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ذریعے گزشتہ برس ملک بدر کیے جانے والے ایک شادی شدہ جوڑے کو گوئٹے مالا میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ اور پولیس کے مطابق نکسن جیووانی پاز کو ان کی اہلیہ سمیت انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا، جن کی لاشیں بندھے ہوئے ہاتھوں اور گولیوں کے نشانات کے ساتھ برآمد ہوئیں۔
نکسن جیووانی پاز کو گزشتہ سال امریکہ سے حراست میں لینے کے بعد جبراً ان کے آبائی ملک گوئٹے مالا واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد کو ایسے ممالک میں واپس بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
گوئٹے مالا حکام کا کہنا ہے کہ اس ہولناک واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس قتل کے محرکات اور اس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔ تاہم، اس اندوہناک واقعے نے تارکین وطن کی حفاظت اور جبری ملک بدری کے عمل کے دوران پیش آنے والے خطرات پر ایک بار پھر عالمی سطح پر مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔