LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کی خفیہ آمدنی اور عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی

News Image
بلومبرگ کی ایک حالیہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے عالمی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خفیہ ذرائع سے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔ یہ رقم ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو وسعت دینے اور عسکری طاقت بڑھانے میں استعمال کی جا رہی ہے۔
عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا کی حکومت نے ایک ایسا خفیہ مالیاتی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے جس کے ذریعے وہ اربوں ڈالر کی خطیر رقم حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ بلومبرگ کی جانب سے کیے گئے تجارتی اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر کے تفصیلی تجزیے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کم جونگ اُن کی حکومت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو وسعت دینے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے نئے اور پیچیدہ ذرائع تلاش کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس خفیہ مہم کے ذریعے پیانگ یانگ نے تقریباً 22 ارب ڈالر کی رقم اپنے قومی خزانے میں منتقل کی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ جدید عسکری ٹیکنالوجی کے حصول پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع سے نکالا ہے۔ جنگی حالات کے پیش نظر عالمی سپلائی چین اور ہتھیاروں کی طلب میں آنے والی تبدیلیوں نے شمالی کوریا کو اپنے عسکری سازوسامان اور دیگر وسائل کی فروخت کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، شمالی کوریا کے ہیکرز کی ایک منظم فوج بھی عالمی مالیاتی اداروں اور کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو نشانہ بنا کر مسلسل فنڈز کی ترسیل یقینی بنا رہی ہے۔ یہ ڈیجیٹل سرقہ پیانگ یانگ کی معیشت کے لیے ایک اہم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس پر قابو پانا بین الاقوامی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی بندرگاہوں اور خفیہ تجارتی راستوں کا انتہائی مہارت سے استعمال کر رہا ہے تاکہ پابندیوں والی اشیاء کی نقل و حمل کو چھپایا جا سکے۔ بحری جہازوں کے ذریعے تیل، کوئلہ اور دیگر ممنوعہ سامان کی منتقلی کو ٹریک کرنے سے پتا چلتا ہے کہ پیانگ یانگ کس طرح بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر کے اپنی معاشی تنہائی کو کم کرنے میں مصروف ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے ان پابندیوں کے اثرات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر شمالی کوریا کا یہ نیٹ ورک اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو مستقبل قریب میں پیانگ یانگ کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں مزید تیزی آئے گی۔ عالمی برادری اب یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اور زیادہ موثر حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ اس کے مالیاتی ذرائع کو مکمل طور پر مسدود کیا جا سکے۔ یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نئے بحران کی جانب اشارہ کر رہی ہے جہاں اقتصادی پابندیاں کم جونگ اُن کے عزائم کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔