LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کی بینائی اور اسکرین کا استعمال: محکمہ صحت کی نئی ہدایات

News Image
امریکی محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بچوں کی صحت پر اسکرین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے والدین کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال کو محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کی صحت، خاص طور پر ان کی بینائی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ حال ہی میں امریکی محکمہ صحت (HHS) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بچوں میں اسکرین کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل اب ایک سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکے ہیں۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایڈوائزری کا مقصد والدین اور سرپرستوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل آلات کا طویل وقت تک استعمال آنکھوں کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی اور مسلسل ایک ہی جگہ پر توجہ مرکوز رکھنے سے بچوں کی آنکھوں کے پٹھوں پر غیر معمولی دباؤ پڑتا ہے، جس سے مستقبل میں بینائی کمزور ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس ایڈوائزری کے اہم نکات میں بچوں کے روزمرہ کے معمولات میں توازن لانے پر زور دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسکرین کے استعمال کو محدود کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کی نشوونما کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اسکولوں اور گھروں میں ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس میں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، کیونکہ قدرتی روشنی میں وقت گزارنے سے بینائی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کا ایک سخت شیڈول بنائیں اور سونے سے پہلے ڈیوائسز کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کروا دیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے مزید کہا ہے کہ یہ صرف بینائی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما اور سماجی رویوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ طویل عرصے تک ڈیجیٹل دنیا میں رہنے والے بچے حقیقت پسندانہ ماحول سے دور ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں چڑچڑاپن اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات جیسے مسائل دیکھے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر اب اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ان ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اعتدال پسندی کو اپنائیں اور بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ انہیں اسکرین کی لت سے دور رکھا جا سکے۔ آخر میں، ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کسی بچے کو سر درد، آنکھوں میں جلن یا دور کی اشیاء دیکھنے میں دشواری ہو رہی ہو، تو اسے ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ فوری طور پر ماہرِ امراض چشم سے رجوع کرنا اور اسکرین کے وقت میں مزید کمی لانا لازمی ہے۔ یہ ایڈوائزری نہ صرف ایک تنبیہ ہے بلکہ ایک رہنمائی بھی ہے تاکہ والدین اپنے بچوں کی صحت مند زندگی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات کر سکیں۔ حکومت اس سلسلے میں مزید آگاہی مہمات چلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ڈیجیٹل دور کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔