World
منشیات کیسز: غیر ملکی شہریوں کی ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سخت احکامات
سپریم کورٹ نے منشیات کے مقدمات میں ملوث غیر ملکی ملزمان کی ضمانت کے لیے نئے سخت ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ اب ملزمان کو سفری دستاویزات جمع کروانے اور متعلقہ حکام کو اپنی نقل و حرکت سے آگاہ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے منشیات سے متعلق مقدمات میں ملوث غیر ملکی شہریوں کی ضمانت کے عمل کو مزید شفاف اور سخت بنانے کے لیے اہم عدالتی ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ منشیات کی روک تھام اور قانونی کارروائی سے فرار کو روکنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے حکم نامے کے مطابق، اب کسی بھی غیر ملکی شہری کو ضمانت دیتے وقت عدالتوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملزمان تفتیش کے عمل کے دوران ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضمانت پر رہا ہونے والے غیر ملکی ملزمان کے لیے اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات متعلقہ عدالت میں جمع کروانا لازمی ہوگا۔
نئی ہدایات کے تحت، ان ملزمان پر ملک سے باہر سفر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ضمانت کے خواہشمند غیر ملکی شہریوں کو فارن ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کے پاس لازمی طور پر رجسٹریشن کروانا ہوگی۔ ملزمان کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت اور رہائش کے حوالے سے متعلقہ حکام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرتے رہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملزمان کی نگرانی کو مؤثر بنانا ہے تاکہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران غائب نہ ہو سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ضمانت کے لیے پیش کیے جانے والے ضامنوں (Sureties) کی تصدیق کا عمل نہایت سخت کیا جائے گا۔ اس سے قبل اکثر کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ غیر ملکی ملزمان جعلی ضمانتوں یا غلط معلومات کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے تھے، جس سے عدالتی کارروائی تعطل کا شکار ہوتی تھی۔ اب عدالتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضامنوں کی مالی حیثیت اور شناخت کی تصدیق کے لیے مکمل چھان بین کریں، تاکہ کسی بھی قسم کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
یہ عدالتی احکامات نہ صرف منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کریں گے بلکہ عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی بحال کریں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سخت شرائط کے نفاذ سے غیر ملکی شہریوں کے فرار ہونے کے خدشات میں نمایاں کمی آئے گی اور مقدمات کو وقت پر نمٹانے میں مدد ملے گی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ یہ ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور تمام ماتحت عدالتوں کو ان پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔