LIVE
Loading Breaking News...

خلا میں ستاروں کی پیدائش اور ریڈیو ٹیلی اسکوپس کا کردار

News Image
سائنس دانوں نے طاقتور ریڈیو ٹیلی اسکوپس کی مدد سے خلا میں موجود مالیکیولز کا نقشہ تیار کر لیا ہے۔ اس تحقیق سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کائنات میں نئے ستارے کیسے اور کہاں تشکیل پاتے ہیں۔
چلی کے اٹا کاما صحرا میں نصب طاقتور ریڈیو ٹیلی اسکوپ نے خلا میں موجود مالیکیولز کی تفصیلی نقشہ سازی میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ ماہرین فلکیات طویل عرصے سے اس بات کی کھوج میں تھے کہ کائنات کے وسیع و عریض رقبے میں ستارے کس طرح جنم لیتے ہیں اور اس عمل کے پیچھے کون سے سائنسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ریڈیو ٹیلی اسکوپس کی مدد سے اب سائنس دانوں کو اس معمے کو حل کرنے میں بڑی کامیابی ملی ہے کیونکہ یہ آلات کہکشاؤں کے ان حصوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو عام دوربینوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ کارل ساگن کا یہ مشہور قول کہ ہم سب ستاروں کے مادے سے بنے ہیں، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے جسموں میں موجود تمام عناصر ماضی میں کسی نہ کسی ستارے کے اندر بنے اور پھر دھماکوں کے ذریعے خلا میں پھیل گئے۔ اب ان نئی اور جدید ریڈیو دوربینوں کی مدد سے محققین نے اس مادی چکر کو مزید گہرائی سے سمجھنا شروع کر دیا ہے، جس سے ستاروں کی پیدائش کے مقامات اور ان کے بننے کے طریقہ کار کی مکمل تصویر سامنے آ رہی ہے۔ اس سائنسی پیش رفت سے نہ صرف فلکیات کے شعبے میں انقلاب برپا ہو رہا ہے بلکہ انسانیت کو کائنات کی ابتدا اور اپنی اپنی تخلیق کے بارے میں مزید اہم حقائق جاننے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید رازوں سے پردہ اٹھنے کی توقع ہے۔