World
وزیراعظم نیوزی لینڈ: دفاعی طیاروں کے استعمال پر وضاحت طلب
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی جانب سے نجی پارٹی فنڈ ریزنگ تقریبات کے دوران دفاعی افواج کے طیاروں کے استعمال پر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں آپریشنل تیاریوں کا حصہ تھیں، جبکہ اپوزیشن اسے سرکاری وسائل کا بے جا استعمال قرار دے رہی ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ ان کی جانب سے ملکی دفاعی افواج کے طیاروں کا مبینہ طور پر ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے چھ ایسے مواقع پر دفاعی طیاروں کا سفر کیا جب وہ نیشل پارٹی کی فنڈ ریزنگ کی تقریبات میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا سرکاری اثاثوں کا استعمال کس حد تک مناسب اور قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ ڈیفنس فورس (NZDF) کے طیاروں کا باقاعدگی سے اڑنا ضروری ہے تاکہ عملے کی آپریشنل تیاری کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکام کے مطابق ہوابازوں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ ہر سال ایک مخصوص تعداد میں پرواز کے گھنٹے مکمل کریں، اور وزیراعظم کا ان طیاروں میں سفر اسی تربیتی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ان پروازوں کا مقصد صرف وزیراعظم کو منزل تک پہنچانا نہیں بلکہ فضائی عملے کی مہارتوں کو جانچنا اور انہیں مستعد رکھنا بھی شامل ہے۔
تاہم، ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ دفاعی طیاروں کا استعمال صرف سکیورٹی اور سرکاری فرائض کی ادائیگی تک محدود ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وزیراعظم اپنی سیاسی جماعت کے چندے جمع کرنے کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہوں، تو انہیں عام کمرشل پروازوں یا نجی ذرائع کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، نہ کہ سرکاری خزانے پر بوجھ ڈالنا چاہیے۔ اس معاملے نے نیوزی لینڈ کے سیاسی حلقوں میں اخلاقی اور قانونی سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا وزیراعظم کو اپنے سرکاری عہدے کے مراعات کو سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ملانا چاہیے یا نہیں۔
اس پورے معاملے پر عوامی رائے منقسم نظر آتی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے وزیراعظم کی سیکورٹی اور مصروف شیڈول کے پیش نظر معمول کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، وہیں ایک بڑا طبقہ اسے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا ضیاع سمجھتا ہے۔ فی الحال وزیراعظم آفس کی جانب سے اس معاملے پر باقاعدہ جواب دیا جا رہا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ تمام اخراجات قواعد کے مطابق ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے کہ آیا آئندہ کے لیے دفاعی طیاروں کے استعمال کے حوالے سے مزید سخت گائیڈ لائنز تشکیل دی جانی چاہئیں۔