World
یونان اور ترکی میں جنگلات کی ہلاکت خیز آگ اور موسمیاتی بحران
یونان کے جزیرے کریٹ میں شدید گرمی کی لہر کے باعث لگنے والی جنگلات کی آگ سے دو فائر فائٹرز جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین کے حکام نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
یونان اور ترکی میں شدید گرمی کی لہر کے نتیجے میں جنگلات میں لگنے والی آگ خطرناک حد تک پھیل گئی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں نظامِ زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔ یونان کے مشہور جزیرے کریٹ میں آگ بجھانے کی کوششوں کے دوران دو فائر فائٹرز اپنی جان کی بازی ہار گئے، جس پر پورے ملک میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتشزدگی انتہائی شدید درجہ حرارت اور تیز ہواؤں کی وجہ سے بے قابو ہوئی ہے اور اسے بجھانے کے لیے ریسکیو اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ترکی کے مختلف حصوں میں بھی جنگلات میں آگ لگنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں مقامی انتظامیہ اور فائر فائٹنگ کا عملہ آگ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کر دیا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے اب عالمی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی قیادت نے اس ہلاکت خیز صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام رکن ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سدباب کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔ یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر گرین ہاؤس गैसों کے اخراج میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات نہ کیے گئے، تو اس طرح کے خطرناک موسمیاتی بحران دنیا بھر میں معمول بن جائیں گے۔ دریں اثنا، متاثرہ علاقوں سے عام شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور حکومتوں کی جانب سے امدادی سرگرمیاں بھی تیز کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے۔