Business
ٹیلی کام سیکٹر میں اصلاحات: 35 سالہ سفر کی مکمل روداد
بھارت میں معاشی لبرلائزیشن کے پینتیس سال مکمل ہونے پر ٹیلی کام کے شعبے میں انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ یہ شعبہ اب محض ایک سرکاری سہولت کے بجائے ملکی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔
بھارت میں معاشی لبرلائزیشن کے آغاز کو پینتیس برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران جس شعبے نے سب سے زیادہ غیر معمولی ترقی کی ہے، وہ ٹیلی کام کا شعبہ ہے۔ تین دہائیوں قبل جب اس سفر کا آغاز ہوا تو ٹیلی کام محض ایک محدود اور سرکاری کنٹرول میں رہنے والی سہولت تھی، جس تک رسائی عام آدمی کے لیے ایک خواب جیسی تھی۔ آج یہی شعبہ بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہا ہے، جس نے ملک کے کونے کونے تک مواصلاتی رابطوں کا جال بچھا دیا ہے۔ سرکاری اجارہ داری کے خاتمے اور نجی کمپنیوں کی شمولیت نے اس شعبے کو ایک نئی جہت دی ہے جس کے ثمرات آج ہر عام و خاص تک پہنچ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، پینتیس سال قبل ٹیلی فون کنکشن کا حصول ایک مشکل ترین عمل تھا، جس کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کالز کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ اصلاحات کے بعد مارکیٹ میں مسابقت کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور ٹیکنالوجی کی پہنچ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے کاروبار، تعلیم، صحت اور مالیاتی شعبوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج بھارت دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل منڈیوں میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں ڈیٹا کی کھپت عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے اور سستے انٹرنیٹ نے ہر دیہی اور شہری فرد کو دنیا سے جوڑ دیا ہے۔
اس شعبے کی کامیابی محض ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے اور سرمایہ کاری کو بھی راغب کیا۔ اگرچہ اس شعبے کو گزشتہ برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا بھی رہا، بشمول شدید مسابقت اور ریگولیٹری پیچیدگیاں، لیکن اس کے باوجود اس کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ ٹیلی کام اصلاحات نے ثابت کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں نرمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی سے کسی بھی ترقی پذیر ملک کی معیشت کی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں 5جی اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ٹیلی کام سیکٹر مزید جدید دور میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے، جو معیشت کی ترقی کی رفتار کو اور بھی تیز کرے گا۔