Technology
سینس بریز فیشل ریکگنیشن تنازعہ: ٹیکنالوجی کی غلطی سے بے گناہ گاہک متاثر
برطانیہ کے معروف سپر اسٹور سینس بریز میں فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے باعث ایک بے گناہ گاہک کو چور سمجھ کر اسٹور سے نکال دیا گیا۔ یہ واقعہ ٹیکنالوجی کے غیر محتاط استعمال پر عوامی حلقوں میں تشویش اور تنقید کا باعث بن رہا ہے۔
برطانیہ کے مشہور سپر مارکیٹ چین 'سینس بریز' (Sainsbury's) کو ایک بار پھر اپنی فیشل ریکگنیشن یعنی چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے میں اسٹور کے عملے نے سسٹم کی طرف سے ملنے والے غلط انتباہ (الرٹ) کے بعد ایک بے گناہ گاہک کو چور سمجھ کر اسٹور سے باہر نکال دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے کسی عام شہری کو شرمندگی اور پریشانی سے دوچار کیا ہو، جس سے بڑے ریٹیل اسٹورز میں جدید نگرانی کے نظام کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، متاثرہ گاہک اسٹور میں خریداری کرنے کے لیے داخل ہوا تھا کہ اچانک سسٹم نے اسے ماضی کے کسی مجرم یا مشتبہ شخص کے طور پر شناخت کر لیا۔ سسٹم کی اس غلطی کے بعد عملے نے بنا تصدیق کیے فوری طور پر کارروائی کی اور گاہک کو دکان سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں یہ بات واضح ہوئی کہ فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر نے ڈیٹا میچنگ میں سنگین غلطی کی تھی اور وہ شخص مکمل طور پر بے گناہ تھا۔ اس واقعے نے ٹیکنالوجی کی درستگی اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سپر مارکیٹس میں اس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی غلطیوں کی گنجائش کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ انسانی عملہ اکثر مشینوں پر مکمل انحصار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی تذلیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی سو فیصد درست نہیں ہے تو اسے عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات کے لیے استعمال کرنا ایک خطرہ بن سکتا ہے۔
سینس بریز کی جانب سے اس واقعے کے بعد تاحال کوئی تفصیلی معافی نامہ جاری نہیں کیا گیا، لیکن اسٹور انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے حفاظتی پروٹوکولز کا دوبارہ جائزہ لے۔ لوگ اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جب تک ان سسٹمز کو مکمل طور پر محفوظ اور غلطیوں سے پاک نہیں کیا جاتا، تب تک ان کا استعمال محدود ہونا چاہیے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور نگرانی کے جدید آلات کو انسانی فیصلے کی جگہ دینا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے جس کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔