World
روس کا ٹیلیگرام بانی پاول دوروف پر دہشت گردی میں مدد کا الزام
روسی فیڈرل سکیورٹی سروس نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیلیگرام نے یوکرین کے خفیہ اداروں اور شدت پسند گروپوں کی جانب سے استعمال ہونے والا مواد نہیں ہٹایا۔ یہ پیش رفت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ریاستی سکیورٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کو ظاہر کرتی ہے۔
ماسکو: روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے مقبول ترین میسجنگ ایپ ٹیلیگرام کے بانی اور چیف ایگزیکٹو پاول دوروف کے خلاف ایک نیا محاذ کھولتے ہوئے ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق، ٹیلیگرام نے ایسے مواد کو ہٹانے سے گریز کیا ہے جسے یوکرین کے خفیہ اداروں اور مبینہ دہشت گرد ملک دشمن عناصر کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایف ایس بی کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر موجود اس قسم کے مواد نے ملکی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
روسی سکیورٹی حکام کا مزید کہنا ہے کہ بار بار تنبیہ کے باوجود ٹیلیگرام انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے شدت پسند گروہوں کو بلا روک ٹوک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ روس میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواصلات پر سخت ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور حالیہ الزامات اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ریاستی سلامتی کے معاملات پر زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، پاول دوروف اور ٹیلیگرام کی انتظامیہ نے ت حال اس تازہ ترین الزام پر کوئی جامع جوابی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم کمپنی پہلے بھی دنیا بھر میں صارفین کی رازداری اور آزادیِ اظہار کا دفاع کرنے کا عزم ظاہر کرتی رہی ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے یہ الزامات نہ صرف ٹیلیگرام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر انکرپٹڈمیسجنگ سسٹمز اور حکومتی نگرانی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور مختلف حکومتوں کے درمیان سکیورٹی، ڈیٹا شیکریگ اور مواد کی سنسرشپ کے مسائل پر تناؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، روس اور ٹیلیگرام کے مابین یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل دنیا میں مزید پالیسی تبدیلیوں اور ضابطوں کا باعث بن سکتی ہے، جس پر بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھی گہری نظر ہے۔