LIVE
Loading Breaking News...

جیرڈ کشنر کا دورہ اسرائیل اور غزہ امن مذاکرات کی تازہ صورتحال

News Image
سابق امریکی سفیر اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیرڈ کشنر کی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ غزہ امن منصوبے پر ہونے والی بات چیت بغیر کسی ٹھوس پیش رفت کے ختم ہو گئی ہے۔ مذاکرات کے اس دور میں حماس اور اسرائیل کے مابین تعطل کا شکار معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات عالمی سفارتی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت دیرپا امن کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم، مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، یہ مذاکرات کسی بھی ٹھوس بریک تھرو یا حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران کشنر نے نیتن یاہو کے ساتھ غزہ کی موجودہ صورتحال اور وہاں قائم ورکنگ گروپس کے مینڈیٹ پر تفصیلی گفتگو کی۔ اگرچہ کشنر نے ملاقات کو 'بہت اچھی' قرار دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن معاہدہ ابھی تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے موقف میں موجود تضادات اور غزہ میں زمینی حقائق اس قدر پیچیدہ ہیں کہ فوری طور پر کسی بڑے سمجھوتے کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔ دوسری جانب، غزہ کے حوالے سے قائم ورکنگ گروپس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان گروپس کو انسانی امداد، سکیورٹی اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کے حوالے سے تجاویز دینی تھیں، لیکن سیاسی اور عسکری سطح پر عدم اعتماد کی فضا نے ان کے کام کو شدید متاثر کیا ہے۔ سابق امریکی سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان بنیادی اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک کوئی بھی غیر سرکاری مشن یا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کار یہ رائے رکھتے ہیں کہ جیرڈ کشنر کا یہ دورہ امریکی خارجہ پالیسی کے متحرک ہونے کا اشارہ تو ہے، لیکن اسے کسی بڑی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے مزید جامع سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ فی الحال، غزہ میں جنگ بندی اور مغویوں کی رہائی کا معاملہ بدستور تعطل کا شکار ہے، جس سے نہ صرف خطے کی سکیورٹی صورتحال بگڑ رہی ہے بلکہ انسانی المیہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں ان مذاکرات کے کوئی مثبت اثرات سامنے آتے ہیں یا یہ بھی ماضی کی کوششوں کی طرح بے سود ثابت ہوں گے۔