LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ اور نیٹو: روس کے لیے نئے مواقع کے امکانات

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال ولادیمیر پیوٹن کو نیٹو اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کا سنہری موقع فراہم کر سکتی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو اتحاد کے بارے میں حالیہ بیانات نے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اتحاد کے دفاعی اصولوں پر سوال اٹھانا دراصل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے ایک کھلے دروازے کی مانند ہے، جس سے وہ نیٹو کی یکجہتی کو کمزور کرنے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگرچہ روس یوکرین جنگ میں ایک فیصلہ کن فتح کے حصول کے لیے کوشاں ہے، لیکن ٹرمپ کے بیانات اس مقصد کے حصول میں روسی حکمت عملی کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔ نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے کہ آیا واشنگٹن مستقبل میں بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا یا نہیں۔ ٹرمپ کا یہ موقف کہ اتحادی ممالک کو اپنے دفاع کے لیے خود اخراجات اٹھانے چاہئیں، طویل عرصے سے نیٹو کے ڈھانچے کو متنازع بنا رہا ہے۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے عالم میں اس طرح کی بیان بازی روس کے لیے ایک تزویراتی تحفہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ کریملن طویل عرصے سے نیٹو کو روس کے خلاف ایک جارحانہ طاقت قرار دیتا آیا ہے اور اسے تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ اپنے تزویراتی عزم سے پیچھے ہٹتا ہے تو نیٹو کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف یورپی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی طاقت کا توازن بھی بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح مغربی اتحاد میں دراڑیں ڈال کر اپنا سیاسی غلبہ قائم کریں، اور ٹرمپ کے بیانات ان کی اس کوشش کے لیے ایک ایندھن کا کام کر رہے ہیں۔ آخر میں، عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ نیٹو کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے پرانے اصولوں پر کس حد تک قائم رہتا ہے۔ اگر مغربی دنیا میں اتحاد کا فقدان پیدا ہوا تو اس سے نہ صرف روس کو فائدہ ہوگا بلکہ دنیا بھر میں جمہوریت پسند ممالک کی سیکیورٹی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آنے والے انتخابات اور ان کے نتیجے میں بننے والی امریکی خارجہ پالیسی اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوگی کہ آیا نیٹو ایک مضبوط دفاعی ڈھال کے طور پر قائم رہتا ہے یا اسے بتدریج کمزور کر دیا جاتا ہے۔