World
شی جن پنگ کی حکمت عملی: جیانگ زیمن کی میراث اور چین کا مستقبل
چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے پیشرو جیانگ زیمن کی میراث کا حوالہ دیتے ہوئے ملکی معاشی اور عالمی پالیسیوں کے ایجنڈے کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر چین کو سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں اپنے آنجہانی پیشرو جیانگ زیمن کی میراث کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے اپنے موجودہ معاشی اور عالمی سیاسی ایجنڈے کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شی جن پنگ کا یہ اقدام داخلی طور پر اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے دوران عوام میں یکجہتی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ چین اس وقت عالمی سطح پر 'تیز ہواؤں اور پرخطر پانیوں' جیسی صورتحال سے دوچار ہے، جس کا مطلب بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی کی کیفیت ہے۔
جیانگ زیمن کے دور حکومت میں چین نے تیز رفتار معاشی ترقی اور عالمی تجارت میں خود کو ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر منوایا تھا۔ اب شی جن پنگ اسی دور کی اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل کو اپنے موجودہ 'نئے دور' کے نظریات کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ نہ صرف ماضی کی کامیابیاں برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق چین کو ایک ایسی عالمی طاقت بنانا چاہتے ہیں جو کسی بھی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ حکمت عملی چین کے اندرونی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شی جن پنگ کی جانب سے پیشرو کی میراث کا ذکر کرنا ایک ایسی سیاسی چال ہے جس سے پارٹی کے اندر موجود مختلف دھڑوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ جیانگ زیمن کے اصولوں کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم، ساتھ ہی وہ اپنی قیادت میں جاری سخت گیر پالیسیوں کے لیے ایک نیا جواز بھی تلاش کر رہے ہیں۔ موجودہ عالمی تناظر میں جہاں امریکہ اور چین کے مابین تجارتی اور تیکنیکی رقابت بڑھ رہی ہے، شی جن پنگ کا یہ بیانیہ چین کے عوام کو درپیش چیلنجز کے لیے تیار رکھنے اور حکومتی بیانیے کے پیچھے متحد کرنے کی ایک اہم کوشش معلوم ہوتی ہے۔
آخر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نیا سیاسی بیانیہ چین کی معیشت کو درپیش بحرانوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ شی جن پنگ کا اصرار ہے کہ چین کو اپنے خود انحصاری کے سفر کو مزید تیز کرنا ہوگا، چاہے عالمی حالات کتنے ہی ناساز کیوں نہ ہوں۔ جیانگ زیمن کی میراث کا استعمال دراصل موجودہ قیادت کی جانب سے طویل المدتی استحکام کے عزم کا اعادہ ہے، جو آنے والے برسوں میں چین کی داخلی اور خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو رہے گا۔