Business
اسٹینلے ڈرکن ملر کی سرمایہ کاری میں بڑی تبدیلی، ایمیزون پر اعتماد
نامور سرمایہ کار اسٹینلے ڈرکن ملر کے ڈوکین فیملی آفس نے دوسری سہ ماہی کے دوران براڈ کام، انٹیل اور مائیکرون ٹیکنالوجی کے تمام حصص فروخت کر دیے۔ اس کے برعکس فرم نے ایمیزون سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
معروف عالمی سرمایہ کار اسٹینلے ڈرکن ملر کے زیر انتظام چلنے والے ڈوکین فیملی آفس (Duquesne Family Office) نے حال ہی میں اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ جمعہ کو جمع کرائی گئی 13F رپورٹ کے مطابق، ڈرکن ملر نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران سیمی کنڈکٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بڑی کمپنیوں جیسے براڈ کام، انٹیل، اور مائیکرون ٹیکنالوجی کے اپنے تمام حصص فروخت کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے لیے غیر متوقع سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ان کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کے شعبے میں کلیدی کھلاڑی سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب ڈوکین فیملی آفس نے اپنی سرمایہ کاری کا رخ ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی دیو ہیکل کمپنی ایمیزون (Amazon) کی جانب موڑ دیا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فرم نے ایمیزون میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے اور حصص کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈرکن ملر کا یہ اقدام مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات اور بڑی ٹیک کمپنیوں کی مستقبل کی صلاحیتوں پر ان کے گہرے تجزیے کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ طویل عرصے سے مارکیٹ کے موومنٹ کو سمجھنے میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کے پورٹ فولیو میں تبدیلی اکثر سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے کارفرما وجوہات پر بات کرتے ہوئے مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹیل اور مائیکرون جیسی کمپنیوں کو درپیش حالیہ چیلنجز اور عالمی سپلائی چین کے مسائل نے شاید سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ اس کے برعکس ایمیزون کا کلاؤڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارم 'AWS' مسلسل منافع بخش ثابت ہو رہا ہے جو اسے ایک محفوظ اور مستحکم سرمایہ کاری کا آپشن بناتا ہے۔ اسٹینلے ڈرکن ملر کا یہ فیصلہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے اندر ہو رہی بڑی ایڈجسٹمنٹ کو ظاہر کرتا ہے جہاں سرمایہ کار اب صرف گروتھ کے بجائے پائیدار آمدنی والے ماڈلز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
مارکیٹ میں اس خبر کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا دیگر بڑے ہیج فنڈز بھی ٹیکنالوجی سیکٹر میں اسی طرح کے فیصلے کریں گے۔ ڈرکن ملر کا شمار دنیا کے بااثر ترین سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے، لہذا ان کے پورٹ فولیو میں ہونے والی یہ بڑی تبدیلی آنے والے دنوں میں وال سٹریٹ پر ٹیکنالوجی اسٹاکس کے مزاج کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا معیار اب تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور کمپنیاں اپنی آپریشنل کارکردگی کی بنیاد پر ہی بڑے سرمایہ کاروں کو راغب کر سکیں گی۔