LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت سے بےزار سافٹ ویئر انجینئر کی نئی زندگی کا آغاز

News Image
ایک تجربہ کار سافٹ ویئر کوالٹی انجینئر نے طویل عرصے تک بے روزگاری اور ملازمت میں بار بار مسترد ہونے کے بعد آئی ٹی انڈسٹری چھوڑ دی ہے۔ اب وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز ایک اسکول بس ڈرائیور کی حیثیت سے کر رہے ہیں۔
آئی ٹی انڈسٹری میں جاری چھانٹیوں کے دور اور ملازمت کے حصول میں شدید مشکلات کے بعد، ایک سینئر سافٹ ویئر کوالٹی انجینئر نے تمام تر امیدیں ختم ہونے پر ٹیکنالوجی کا شعبہ خیرباد کہہ دیا ہے۔ ایک سال سے زائد عرصے تک مسلسل کوششوں اور درجنوں انٹرویوز کے باوجود کامیابی نہ ملنے پر، مذکورہ انجینئر نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا رخ مکمل طور پر تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ ایک اسکول بس ڈرائیور کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں آئی ٹی سیکٹر کے غیر مستحکم حالات اور ملازمین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے انجینئر نے بتایا کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ بے روزگاری میں گزرنا انتہائی اذیت ناک تجربہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تکنیکی شعبے میں ملازمت کا عمل اب صرف صلاحیتوں کی جانچ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک تھکا دینے والا اور مایوس کن عمل بن چکا ہے جہاں امیدواروں کو بار بار مسترد کیا جاتا ہے۔ اس مسلسل ناکامی نے انہیں ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب انہیں اپنی زندگی کا سکون کسی اور شعبے میں تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک اسکول بس ڈرائیور کے طور پر کام کرنا انہیں ایک خاص قسم کا اطمینان فراہم کر رہا ہے جو آئی ٹی کی کارپوریٹ دنیا میں مفقود ہو چکا تھا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ان کی تحریر نے ان ہزاروں افراد کے جذبات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت آئی ٹی سیکٹر میں ملازمت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں امید ظاہر کی کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری مستقبل میں اپنے رویوں میں بہتری لائے گی اور اپنے ملازمین کو بہتر انسانی سلوک فراہم کرنے کی طرف پیش قدمی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی صرف ایک پروفیشن یا عہدے کا نام نہیں ہے، بلکہ خوشی اور ذہنی سکون زیادہ اہم ہیں۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ شدید معاشی دباؤ میں بھی لوگ اپنے لیے متبادل راستے تلاش کر سکتے ہیں، خواہ وہ راستہ کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیاں جس طرح ملازمین کی کٹوتی کر رہی ہیں، اس نے پروفیشنلز کے مستقبل کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس انجینئر کا فیصلہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو اپنی ذہنی صحت اور سکون کی خاطر کیریئر میں بڑی تبدیلی لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ان کی اس نئی شروعات کو سراہ رہے ہیں اور ان کے نئے سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔