World
آبنائے ہرمز پر تنازع: ایران نے امریکہ کے سامنے ریڈ لائن کھینچ دی
ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی سخت پابندیاں اور ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تب تک آبنائے ہرمز کو ہر صورت بند رکھا جائے گا۔ یہ اعلان امن معاہدے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے کشیدہ حالات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایران نے ایک بار پھر عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ پابندیاں اور ناکہ بندی مکمل طور پر ختم نہیں کی جاتیں۔ یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امن معاہدے کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے اور خطے میں مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ ملکی دفاع اور اقتصادی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکہ کو اس حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔
دوسری جانب امریکی قیادت کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی سفارت کاروں اور پارلیمانی رہنماؤں نے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ پابندیاں اس گزرگاہ کو محفوظ رکھنے کے عمل میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دباؤ کی پالیسی اب کام نہیں کرے گی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اگر تنازعات کا فوری حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ایران نے اپنی فوجی تیاریوں کو بھی بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ تہران کا واضح پیغام ہے کہ امن کا راستہ صرف اور صرف پابندیوں کے خاتمے اور باہمی احترام سے ہی نکلتا ہے، اور جب تک یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے، آبنائے ہرمز پر ایرانی گرفت برقرار رہے گی۔