Pakistan
عطا اللہ تارڑ کا دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پر زور
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے سیاسی استحکام اور متفقہ پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری طویل جنگ میں ناقابل تلافی نقصان اٹھایا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک نے دہشت گردی کے عفریت سے لڑتے ہوئے 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے جو کہ ایک عظیم قربانی ہے جس کا مقصد ملک میں امن کا قیام تھا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے ان شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور حکومت ان کے خون کا قرض چکانے کے لیے پرعزم ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے صرف فوجی اقدامات کافی نہیں ہیں بلکہ اس کیلئے ملک میں ایک مضبوط سیاسی بیانیے اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں تبدیلی دہشت گرد عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر انسداد دہشت گردی کے معاملے پر یک زبان ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے طویل المدتی اور مستقل پالیسیوں کا تسلسل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر پالیسیوں میں تسلسل نہ ہوا تو حاصل ہونے والی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی کے اہم امور پر ایک متفقہ حکمت عملی اپنائیں تاکہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی صرف گولی یا بارود سے نہیں بلکہ ایک بہتر اور مربوط بیانیے کے ذریعے ختم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے انتہا پسندانہ سوچ کو شکست دینے کے لیے سماجی اور تعلیمی اصلاحات پر بھی زور دیا تاکہ نوجوان نسل کو ان نظریات سے دور رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پوری قوت استعمال کر رہی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام قومی ادارے اور سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آ کر ملک کو مستحکم بنائیں۔